امریکی اداکار جارج کلونی کا بائیڈن کے دست راست سے سخت مکالمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے نامور اداکار اور صدر جو بائیڈن کے زبردست حامی جارج کلونی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری کے بعد امریکی رد عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے پچھلے ماہ صدر جو بائیڈن کے ایک معاون سے شکایت کی تھی کہ فوجداری عدالت پر کی جانے والی تنقید درست نہیں ہے۔ خیال رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے ساتھ اسرائیلی وزیر دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کر کے بھی امریکی انتظامیہ کی ناراضگی مول لی تھی۔ اس کیس میں جارج کلونی کی لبنانی نژاد برطانوی اہلیہ امل کلونی نے بطور ایک قانونی ماہر پراسیکیوٹر فوجداری عدالت کو خدمات پیش کی تھیں۔

بعد ازاں جارج کلونی عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کی تعریف کی تھی جبکہ امل کلونی نے بھی ان شواہد پر زور دیا تھا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے وارنٹ جاری کرنے کا جواز بنتے ہیں۔

خیال رہے امل کلونی انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن کے طور پر معروف ہیں۔

پریشان اور ناراض

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جارج کلونی نے صدر جوبائیڈن کے معاون سٹیو رچیٹی سے بات کرتے ہوئے اس موضوع پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ جوبائیڈن انتظامیہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں لگانے کا سوچ رہی ہے۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق جارج کلونی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ 'ایسے کسی امریکی اقدام سے میری اہلیہ پر بھی اثر پڑے گا۔

امریکی اداکار جارج کلونی کا یہ غصہ ایسے وقت میں بھڑک کر سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ بعد امریکی صدر کی انتخابی مہم کے لیے 15 جون سے لاس اینجلس میں فنڈ ریزنگ مہم شروع کی جانے والی ہے۔

واضح رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے 20 مئی کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ تاکہ جنگی جرائم میں مبینہ مرتکب شخصیات کو گرفتار کر کے پراسس آگے بڑھایا جاسکے۔ اس سلسلے میں جارج کلونی کی اہلیہ امل کلونی کی قانونی مشاورت بھی شامل تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے وارنٹ جاری کرنے کے سلسلے میں پیش رفت پر غصے کا اظہار کیا تھا۔

امریکی کانگریس کے دونوں جماعتوں کے 42 ارکان نے ایک بل کے مسودے پر نے ووٹ دیتے ہوئے بین الااقوامی فوجداری عدالت کی مذمت کی اور اس پر پابندیاں لگا نے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں