فلسطینی حامی مظاہرین کا وائٹ ہاؤس کے گھیراؤ کا ارادہ، روکنے کے لیے باڑ لگا دی گئی

ہفتے کے روز غزہ جنگ کے آٹھ ماہ مکمل، اس دوران یہود دشمنی اور اسلامو فوبیا میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے فلسطینی حامی کارکنان ہفتے کے آخر میں احتجاج کے دوران وائٹ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے باڑ لگانے سمیت اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ خاص قسم کی باڑ ہے جسے پھلانگنا اور توڑنا ممکن نہیں ہوتا۔

انسانی حقوق کی وکالت اور ان کے لیے کام کرنے والے گروپس مثلاً کوڈ پنک اور امریکی اسلامی تعلقات کونسل نے جمعہ کے روز کہا کہ ہفتے کے روز (آج) مظاہرے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آٹھ ماہ مکمل ہونے کا دن ہے۔ اس جارحیت میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ بڑے پیمانے پر بھوک اور تباہی کے ساتھ ایک انسانی بحران کا باعث بنی ہے۔

اسرائیل کے کلیدی اتحادی امریکہ نے کئی مہینوں تک فلسطینیوں کے حامی مظاہرے دیکھے ہیں جن میں واشنگٹن میں مارچ اور وائٹ ہاؤس کے قریب شمعیں روشن کرنے کی تقریبات سے لے کر متعدد شہروں میں ٹرین سٹیشنوں اور ہوائی اڈوں کے قریب پلوں اور سڑکوں کی بندش اور کئی کالج کیمپس میں احتجاجی کیمپوں کا قیام شامل ہیں۔

صدر جو بائیڈن کی پالیسی سے اختلاف کی بنا پر ان کی انتظامیہ کے کم از کم آٹھ عہدیداروں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ مظاہرین نے دوبارہ انتخاب کی بائیڈن کی مہم کے کچھ پروگراموں میں بھی خلل پیدا کیا ہے۔ بائیڈن اس وقت سرکاری دورے پر فرانس میں ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک ترجمان نے کہا، "واشنگٹن ڈی سی میں اس ہفتے کے آخر میں ہونے والی تقریبات کی تیاری کے لیے وائٹ ہاؤس احاطے کے قریب اضافی عوامی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں بڑے ہجوم کے جمع ہونے کا امکان ہے۔"

بائیڈن اور وائٹ ہاؤس نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں لیکن "افراتفری و بدنظمی" اور تشدد کی نہیں۔

یونیورسٹی کے مظاہروں میں کبھی کبھار تشدد ہوتا رہا ہے جبکہ پولیس نے کیمپس کو خالی کرنے کے لیے گرفتاریاں کی ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس میں جنگ مخالف کارکنان پر چند ہفتے قبل ایک ہجوم نے پرتشدد حملہ کیا تھا۔

تنازعات کے درمیان یہود دشمنی اور اسلامو فوبیا میں اضافے کے بارے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر نسل کشی کے الزامات لگے جن سے اسرائیل انکار کرتا ہے۔ جنگ بندی کی ایک ازسرِ نو کوشش جمعہ کے دن سے رکی ہوئی نظر آ رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں