پکے پکائے کھانے ڈیلیوری بائیک بکس میں خراب ہوسکتے ہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غذائی ماہرین کے مطابق ڈیلیوری ایپلی کیشنز میں زیادہ تر موٹرسائیکل ڈیلیوری کمپنیوں کے فوڈ سٹوریج کیبنٹ میں حفاظتی اور حفظان صحت کی خصوصیات کی کمی ہوتی ہے کیونکہ ان میں صفائی کی کم از کم سطح کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔

غذائیت کے ماہرین نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے اس حوالےسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کے محفوظ تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جراثیم کشی کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔ وہ شدید گرمی میں سڑکوں پر گھومتے ہیں۔ اس طرح یہ موٹرسائیکل بکس جراثیم اور بیکٹیریا کی افزائش کے لیے ایک زرخیز ماحول فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں خوراک کے معیار اور حفاظت پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے باعث کھانے کی چیزیں خراب ہوجاتی ہیں۔ جس سے صحت کے مسائل کا خطرہ ہوتا ہے اور فوڈ پوائزننگ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن میں ’پی ایچ ڈی‘ کرنے والے ڈاکٹر ابراہیم العریفی کہتے ہیں کہ "ڈیلیوری ایپ سائیکلوں" کے لیے فوڈ سٹوریج کے خانوں میں حفاظت اور حفظان صحت کے تقاضوں کو نافذ کرنے میں ناکامی کھانے کی چیزوں کوخراب کرنے کا باعث بنتی ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم العریفی
ڈاکٹر ابراہیم العریفی

"کھانے کی نقل و حمل کے ذرائع میں "اسٹوریج بکس" پر منحصر ہے۔ ان بکسز کو سورج کی شعاعوں سے متاثر ہونے سے بچانے اور ان کے اندر درکار درجہ حرارت کو برقرار رکھنا ضروری ہے، تاہم موٹرسائیکل کے ذریعے ان بکسوں کو لے جانے سے یہ سورج کی شعاعوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بکسز حفظان صحت کی شرائط کے مطابق تیار ہونے چاہئیں جو اندر موجود اشیاء کے لیے ضروری درجہ حرارت فراہم کرسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "موٹرسائیکلوں پر استعمال ہونے والے فوڈ ٹرانسپورٹ ڈبوں کو مسلسل دیکھ بھال، صفائی اور جراثیم سے پاک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے اندر جرثومے یا کھانے کی باقیات نہ پھیلیں۔ اس طرح یہ ڈبہ آلودہ ہوتا ہے اور صارفین تک پہنچایا جانے والا کھانا خراب ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی موٹرسائیکلوں کو زیادہ دیر تک دھوپ میں نہیں چھوڑنا چاہیے"۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر یا ریستوران میں کھانا بہتر ہے"۔

ایک دوسری ماہر غذا ڈاکٹر امل کنانہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ کھانے پر درجہ حرارت میں تبدیلی نقصان دہ بیکٹیریا کی تشکیل کا باعث بنتی ہے جو کہ زہریلے اثرات پیدا کرتی ہے۔ اس کے لیے خوراک کی تیاری اور نقل و حمل میں مکمل احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرم کھانے کی نقل و حمل سے کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ ہم گرمیوں کے دوران جس گرم آب و ہوا میں رہتے ہیں اس کے لیے گرمی ضروری ہے، تاہم گرم کھانے کا ٹھنڈا ہونا خطرناک ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بند ڈبے کے اندر لے جانے پر درجہ حرارت میں بڑی تبدیلی ہوتی ہے۔ بکس کے اندر کا درجہ حرارت بعض اوقات زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ جب کھانے کی چیزوں میں نمی آتی ہے وہ ایک گھنٹے سے زیادہ عرصے تک ڈبے کے اندر رہتی ہیں تو یہ ممکن ہے کہ اس سے خوراک خراب ہو جائے"۔

ڈاکٹر امل کنانہ
ڈاکٹر امل کنانہ

پروفیسر فہد الخضیری ایک پروفیسر اور سائنسدان ہیں جو سرطان پیدا کرنے والے مادوں پر تحقیق کرتے ہیں۔ انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ گرم کھانے کے دو یا تین گھنٹے تک گرم موسم میں رہنے سے نقصان نہیں پہنچتا۔ جب کہ ٹھنڈے کھانے کو بکس میں لے جانے سے دو گھنٹوں تک فرق نہیں پڑتا بشرطیکہ یہ ایک بیگ کے اندر ہو جو کارک سے مضبوط ہو، اسے اچھی طرح سے پیک کیا گیا اور اسے گرم موسم سے بچانے کے لیے تھرمل انسولیشن بیگ میں رکھا گیا ہو۔

پروفیسر فہد الخضیری
پروفیسر فہد الخضیری

انہوں نے سعودی عرب میں ٹرانسپورٹ کی جنرل اتھارٹی نے جنرل ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر آرڈر ڈیلیور کرنے کے لیے موٹرسائیکلوں کے استعمال کے لیے اس حوالے سے ضابطہ قائم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ترسیل کی سرگرمی کے لیے نئے ضوابط جاری کیے ہیں تاکہ ڈیلیوری سروسز کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء کی بہ حفاظت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں