ڈنمارک کی وزیر اعظم پر حملہ کرنے والا شخص گرفتار کر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک کی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ دارالحکومت کوپن ہیگن کی ایک گلی میں وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن پر ہونے والے حملے کے بعد وہ 'صدمے' میں ہیں۔

حملہ شہر کے وسط میں ایک چوک پر ہوا۔ ایک شخص ایک گلی سے نکل کر آیا اور انھیں نشانہ بنایا۔ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا وان در لیین نے اس حملے کو 'قابل نفرت فعل' قرار دیا اور کہا کہ یہ ہر اس چیز کے خلاف ہے جس پر ’ہم یقین رکھتے ہیں اور جس کے لیے یورپ میں ہم لڑتے ہیں۔‘

وزیر اعظم کے دفتر نے مزید تفصیلات بتائے بغیر ایک بیان میں کہا: 'وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن کو جمعہ کی شام کوپن ہیگن کے کولٹرویٹ میں ایک شخص نے تشدد کا نشانہ بنایا جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔'

ڈنمارک پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے مزید کچھ بتانے سے انکار کر دیا۔

اس شخص کے مقصد کے بارے میں ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔

دو عینی شاہدین میری ایڈریان اور اینا ریون نے مقامی اخبار بی ٹی کو بتایا کہ انھوں نے حملہ دیکھا ہے۔

ان دونوں خواتین نے اخبار کو بتایا: 'ایک شخص مخالف سمت سے آیا اور اس نے ان کے کندھے پر زور سے دھکا مارا جس کی وجہ سے وہ ایک طرف کو گر گئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ 'زوردار دھکا' تھا تاہم وزیر اعظم زمین پر نہیں گریں اور سنبھل گئیں۔

دونوں عینی شاہدین نے مزید کہا کہ اس کے بعد وہ ایک کیفے میں بیٹھ گئیں۔

یہ حملہ ڈنمارک میں یورپی یونین کے انتخابات میں ووٹنگ سے دو روز قبل ہوا ہے۔

ڈنمارک کے وزیر ماحولیات میگنس ہیونیک نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا: 'میٹے پر حملے سے انھیں قدرتی طور پر صدمہ پہنچا ہے۔ اس نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو ان کے قریب ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'ہمارے خوبصورت، محفوظ اور آزاد ملک میں ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور ان اقدار کا پاس رکھیں جن پر ہمارا ملک بنایا گیا ہے۔"

یاد رہے سوشل ڈیموکریٹس ڈنمارک کی مخلوط حکومت میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ وہ اب بھی انتخابات میں آگے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان کی حمایت میں کافی کمی آئی ہے۔

یہ حملہ سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کو گولی مارنے کے بعد ایک ماہ سے بھی کم مدت میں ہوا ہے۔ رابرٹ فیکو پر اس وقت پے در پے گولی چلائی گئی جب وہ اپنے حامیوں کا استقبال کر رہے تھے۔ اگر چہ وہ اس حملے میں بچ گئے لیکن انھیں کئی آپریشن سے گزرنا پڑا۔

46 سالہ مز فریڈرکسن چار سال قبل سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹس کے رہنما کا عہدہ سنبھالنے کے بعد 2019 میں وزیر اعظم بنی تھیں۔ اس طرح وہ ڈنمارک کی تاریخ کی سب سے کم عمر وزیر اعظم بن گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں