عدن کے جنوب مغرب میں میزائل حملے میں بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اسے یمن میں عدن سے 70 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ایک میزائل حملے کے بعد بحری جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبرے نے اعلان کیا تھا کہ یمن میں عدن سے 83 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں ایک کارگو جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس میں لگنے والی آگ کو بجھا دیا گیا تھا۔

اس نے کہا کہ "اس واقعے کے دوران علاقے میں چھوٹی کشتیوں پر سوار لوگوں نے جہاز پر فائرنگ کی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

برٹش میری ٹائم سیفٹی ایجنسی ’یو کے ایم ٹی او‘ نے تصدیق کی ہے کہ اس علاقے میں ایک جہاز پرحملے کا "واقعہ" پیش آیا ہے، جس کے بعد بحری جہازوں کو محتاط رہنے کا کہا گیا ہے۔

برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے ہفتے کے روز کہا کہ عدن سے 80 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک جہاز کے کپتان نے ایک واقعے کی اطلاع دی۔

اتھارٹی نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

میری ٹائم ایجنسی نے کہا کہ حوثی گروپ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کئی مہینوں سےعلاقائی پانیوں میں بحری جہازوں پرحملے کر رہا ہے۔

19 نومبر سے سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں 100 سے زائد بحری جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یمن کے حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے گذشتہ اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل سے منسلک یا اس کی بندرگاہوں کی طرف جانے والے ہر بحری جہاز کو نشانہ بنائیں گے۔

جبکہ یو ایس میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے اپریل کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ حوثیوں نے بحری جہازوں پر 50 سے زیادہ حملے کیے ہیں، ایک جہاز پر قبضہ کیا اورایک دوسرے کو ڈبو دیا ہے۔

ان حملوں نے تجارتی کمپنیوں کو افریقہ کے گرد طویل اور زیادہ مہنگے راستے پر جانے پر مجبور کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں