معاہدہ مسترد کرنے پر گرفتاری، مصر اور قطر نے حماس رہنماؤں کو مطلع نہیں کیا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے ذرائع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ مصر اور قطر نے تحریک کے رہنماؤں کو مطلع کیا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو مسترد کرتے ہیں تو انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر بائیڈن نے کچھ روز قبل تجویز پیش کی تھی اور حماس سے اسے ماننے کا مطالبہ کیا تھا۔

جنگ بندی کی بات چیت سے واقف حکام نے انکشاف کیا کہ دوحہ اور قاہرہ نے حالیہ دنوں میں حماس کے رہنماؤں کو مطلع کیا تھا کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر راضی نہیں ہوئے تو انہیں ممکنہ گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کی ملک بدری اور اثاثے منجمد کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے مصر اور قطر سے کہا ہے کہ وہ تحریک مزاحمت اسلامی (حماس) پر مزید دباؤ ڈالیں تاکہ وہ گزشتہ ہفتے پیش کی گئی تجویز کی منظوری دے دے۔ لیکن ان دھمکیوں کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ کہ وہ ایسی ڈیل پر راضی نہیں ہوں گے جو تحریک کی شرائط پر پورا نہ اترے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بائیڈن کی طرف سے ایک ہفتہ قبل ایک پریس کانفرنس میں پیش کی گئی تجویز حماس کے لیے ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ حتمی جنگ بندی کی ضمانت نہیں دے رہی۔ تحریک حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ بائیڈن کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کا معاہدہ محض الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک نے ابھی تک جنگ بندی سے متعلق کوئی تحریری وعدے حاصل نہیں کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ابھی تک حماس کی جانب سے سرکاری ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔

اختتام تک یعنی 13 ذو الحج تک جاری رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں