پوپ فرانسس کی غزہ میں فوری انسانی امداد کی اپیل، جنگ بندی تجاویز کی حمایت

پوپ نے ویٹیکن میں ہی دس سال قبل اسرائیلی اور فلسطینی صدور کے ساتھ کی گئی دعائے امن کو یاد کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پوپ فرانسس نے اتوار کو غزہ میں فلسطینیوں تک فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیل اور حماس سے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی تجاویز کو فوری طور پر قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنی اتوار کی دوپہر کی دعا کے دوران فرانسس نے اردن کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس ہفتے فلسطینیوں کے لیے ایک بین الاقوامی انسانی امداد کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

انہوں نے کہا، "میں عالمی برادری کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ جنگ سے تنگ غزہ کے لوگوں کی مدد کے لیے ہر طرح سے فوری طور پر کام کرے۔ انسانی امداد کو ضرورت مندوں تک پہنچنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کوئی بھی اس میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔"

انہوں نے یاد کیا کہ ہفتے کا دن دعائے امن کے 10 سال مکمل ہونے کی یاد دلاتا ہے جس کی میزبانی انہوں نے ویٹیکن گارڈنز میں کی تھی اور اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور فلسطینی رہنما محمود عباس دعا میں شریک ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا، "اس ملاقات نے ظاہر کیا کہ مصافحہ ممکن ہے اور یہ کہ امن قائم کرنے کے لیے آپ کو ہمت کی ضرورت ہے - جنگ کرنے سے کہیں زیادہ ہمت۔"

پوپ فرانسس نے جنگ بندی تجاویز کی حمایت اور امید ظاہر کی کہ فریقین شرائط کو جلد قبول کر لیں گے حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ مذاکرات "آسان نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "مجھے امید ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی خاطر تمام محاذوں پر امن کی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، انہیں فوری طور پر قبول کر لیا جائے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں