"فلسطین کی رکنیت کے خلاف استعمال شدہ ویٹو ختم ,اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترقی پذیر ملکوں کے گروپ ' ڈی ایٹ ' نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف استعمال شدہ ویٹو ختم کیا جائے اور فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے اور اسرائیل کی غزہ جنگ میں ہزاروں فلسطینیوں کے قتل عام کے باعث اسرائیل کو مزید اسلحے کی فراہمی روک دی جائے۔ ان 'ڈی ایٹ' کے رکن ممالک کی طرف سے یہ مطالبات ہفتے کے روز سامنے آئے ہیں۔

فلسطین کو ابھی تک اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت نہیں دی گئی ہے۔ فلسطینی ریاست کو ایک ' نان ممبر آبزرور سٹیٹ ' کا درجہ حاصل ہے۔ یہی درجہ 2012 سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دے رکھا ہے۔

' ڈی ایٹ ' کے رکن ملکوں نے ترکیہ کے شہر استنبول میں اپنی وزارتی کونسل کے اجلاس میں یہ مطالبہ اقوام متحدہ سے ایک مشترکہ بیان میں کیا ہے۔ ان ممالک میں پاکستان ، بنگلہ دیش، مصر، اندونیشیا ، ایران، ملائیشیا، نائیجیریا اور ترکیہ شامل ہیں۔

واضح رہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی طرف سے پیش کردہ ایک قرار داد کو بھاری اکثریت سے منظور کیا ہے۔ اس قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل فلسطینی ریاست کو رکنیت دینے کے اس معاملے کو ہمدردانہ طریقے سے دیکھے۔

یہ مطالبہ کئی ماہ سے غزہ کے اسرائیلی جنگ کی لپیٹ میں آنے کے بعد فلسطینیوں کے لیے زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کی فوج نے اب تک اس جنگ میں 36800 کے لگ بھگ فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ اس جنگ کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل ناجائز یہودی بستیاں قائم کر رہا ہے۔

انسانی حقوق گروپوں کے علاوہ کئی ملک اسرائیل کے ہاتھوں اس جنگ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور تباہی کے پیچھے امریکی اسلحے کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے امریکہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کو اسلحے کی مزید فراہمی بند کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں