مشرق وسطیٰ

آپریشنل تعطل کے بعد امریکی فوج کا غزہ میں ہوائی جہاز سے امداد گرانے کا عمل پھر شروع

امریکہ نے اب تک ہوائی جہازوں سے 1,050 میٹرک ٹن سے زیادہ انسانی امداد بھجوائی ہے: سینٹکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج نے کہا کہ اتوار کو ایک امریکی مال بردار طیارے نے شمالی غزہ میں ہوائی راستے سے بذریعہ پیرا شوٹ 1 میٹرک ٹن سے زیادہ راشن گرایا جس کی ترسیل علاقے میں اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے تعطل کا شکار تھی۔

آٹھ ماہ کے تباہ کن تنازعے کے بعد غزہ کی آبادی کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے اور چونکہ اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے زمینی راستے سے امداد کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی تھی تو امریکہ نے فضائی اور سمندری راستے کا رخ کیا۔

امریکی سینٹکام نے ایک بیان میں کہا کہ ایئر ڈراپ سے "شمالی غزہ میں جان بچانے والی انسانی امداد فراہم کی ہے۔"

بیان میں کہا گیا، "اب تک امریکہ نے ہوائی جہازوں سے 1,050 میٹرک ٹن سے زیادہ انسانی امداد بھیجی ہے" جو غزہ کے ساحل سے منسلک ایک عارضی گھاٹ کے ذریعے فراہم کی جانے والی امداد کے علاوہ ہے۔

سینٹکام نے مزید کہا، "یہ ایئر ڈراپس ایک مستقل اور پائیدار کوشش کا حصہ ہیں اور ہم گذشتہ فضائی ترسیل کے اگلے حصے (فالو آن) کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

پینٹاگون نے مئی کے آخر میں کہا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں اور موسمی حالات سمیت مختلف عوامل امدادی سامان کی بذریعہ پیرا شوٹ ترسیل کو متأثر کر رہے تھے جبکہ سینٹکام کے ڈپٹی کمانڈر وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعے کو کہا کہ ایئر ڈراپس کو "شمال میں ہونے والی حرکیاتی کارروائیوں کی وجہ سے معطل کر دیا گیا" لیکن ان کے دوبارہ شروع ہونے کی امید تھی۔

تازہ ترین فضائی ترسیل سمندری گھاٹ کے ذریعے امداد پہنچانے کے دوبارہ آغاز کے ایک دن بعد ہوئی جسے گذشتہ ماہ خراب موسم کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا اور اسے ساحل سے دوبارہ منسلک کرنے سے پہلے قریبی بندرگاہ میں مرمت کرنا پڑی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں