فرانس کی اندرونی سیاسی ہلچل کا اولمپک گیمز پر اثر نہیں پڑے گا : اولمپک حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اولمپک گیمز کے صدر تھامس باخ نے اپنی طرف سے اولمپک گیمز میں شرکت کرنے والے ملکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فرانس میں اچانک سیاسی ہلچل پیدا ہو جانے سے گیمز پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

صدر اولمپکس نے یہ یقین دہانی فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کی یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت سے شکست کے بعد ہنگامی طور پر اسمبلی توڑ دینے کے سبب کرنا پڑا ہے۔ فرانس میں اسمبلی کے نئے انتخابات 30 جون سے 7 جولائی کو دو مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

فرانس کے نئے انتخابات اولمپکس گیمز کی تاریخ انتخابات کے انعقاد سے محض تین ہفتے پہلے کی ہے۔ جو اولمپکس کی تیاریوں اور سیکورٹی انتظامات کے لیے بہت اہم وقت ہو گا۔

تھامس باخ کا پیرس میں 2024 کے 'رن اپ ایونٹ' میں کہنا تھا' فرانس انتخابات کراتا رہنے والا ایک عادی ملک ہے، اس لیے ایک بار پھر ایسا کر رہاہے، فرانس میں ایک نئی حکومت ہو گی مگر ہر کوئی اولمپکس کی حمایت کرے گا۔'

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ' ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ اتحاد اب کھیلوں کے آغاز سے چند دن پہلے ٹوٹ جائے گا۔'

پیرس کی میئر این ہڈالگو، نے کہا ' یہ سمجھنا مشکل ہے کہ میکروں نے ملک کو کھیلوں کے اتنے قریب سیاسی غیر یقینی صورتحال میں کیوں پھینک دیا۔'، انہوں نے صدر میکروں کے اس اقدام کو بغاوت قرار دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز' کے ساتھ رائٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں، پیرس 2024 کے منتظمین نے کہا کہ وہ سات سال کی تیاری کے بعد گیمز فراہم کرنے اور فرانس کی قوم کو متحد کرنے میں مدد دینے کو تیار ہیں۔

منتظمین نے مزید کہا بلا شبہ ریاست گیمز کے لیے ایک بنیادی کھلاڑی ہے، لیکن ہم ان کی مکمل مصروفیت اور اپنی عوامی خدمات پر بھروسہ کر یں گے اور مسائل پر قابو پائیں گے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں