مصر میں طبی سیاحت کے لیے الیکٹرانک پورٹل جلد کام شروع کر دے گا

وزیر صحت کے مشیر کے مطابق حکومت نے پروگرام کی تشہیر کے لیے بین الاقوامی کمپنی سے معاہدہ کر لیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصری وزیرِ صحت و آبادی کے مشیر سمیح عامر کا کہنا ہے ان کا ملک دو ہفتوں کے اندر اندر طبی سیاحت کے لیے ون ونڈو آپریشن کو یقینی بنانے کے لئے ایک الیکٹرانک پورٹل کا افتتاح کر رہا ہے؛ جس کا مقصد مصر کے لیے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کا حصول ہے۔

سمیح عامر نے وضاحت کی کہ الیکٹرانک پورٹل کو ملک میں طبی سیاحت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور مصر ایک سال سے زائد عرصے سے اس پر کام کر رہا ہے کیونکہ اس میں طبی، ہوٹل اور ہسپتال کی خدمات فراہم کرنے والے سبھی شامل ہوں گے۔

عامر نے وضاحت کی کہ علاج کی غرض سے حاصل کردہ ویزا سیاحوں کو ہوٹل کی قیمتوں میں رعایت کے علاوہ مصر ایئر کی پروازوں پر 25 فیصد رعایت حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے مطابق "الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے مصر میں جس ہسپتال میں علاج کا ارادہ ہو، اسے ریزرو کروانا اور علاج کی غرض سے ویزا حاصل کرنے کی درخواست جمع کروانا ممکن ہے جو سکیورٹی حکام کی منظوری کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر جاری کر دیا جاتا ہے۔"

عالمی تشہیری مہم

انہوں نے نشاندہی کی کہ مصری حکومت نے عرب اور افریقی سفارت خانوں اور کمپنیوں کے ساتھ متعدد معاہدات کیے ہیں تاکہ مریضوں کو ہندوستان اور ترکی کا سفر کرنے کے بجائے مصر میں علاج کے لیے لایا جا سکے۔ اس کے علاوہ طبی سیاحت کے لیے ایک مربوط و منظم تشہیری منصوبہ تیار کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔

عامر نے بات جاری رکھی: "مصر طبی سیاحت کو ایک قومی منصوبے کے طور پر ڈیل کرتا ہے جس پر عمل درآمد کرنے کے لیے تمام فریق کام کر رہے ہیں تاکہ وہ بڑا منافع پیدا کرنے والی مصنوعات پیش کر سکیں۔" انہوں نے دنیا میں طبی سیاحت کی مارکیٹ کے حجم کا تخمینہ 2023 کے آخر تک تقریباً 130 بلین ڈالر لگایا جو 2030 کے آخر تک بڑھ کر 300 بلین تک پہنچنے کی توقع ہے۔

عامر کے مطابق "طبی سیاحت کی اتنی بڑی مارکیٹ اس بات کی مستحق ہے کہ ریاست اسے آگے بڑھائے اور اس سے ڈالر کی بڑی آمدنی حاصل کرنے کے لیے کام کرے۔"

خود مختار ادارہ

وزیر کے مشیر نے ’’العربیہ بزنس‘‘ کو ایک تجویز کے بارے میں بتایا کہ مصر میں طبی سیاحت کے لیے ایک آزاد ادارہ قائم کرنے کی غرض سے غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس معاملے پر بدستور سرکاری اداروں کے درمیان بات چیت کا عمل جاری ہے۔

عامر کے مطابق صحت کی سیاحت دو حصوں میں منقسم ہے: پہلا معالجے پر مبنی ہے جو ہسپتالوں اور علاج کے خصوصی مراکز میں طبی خدمات فراہم کرنے سے متعلق ہے اور دوسرا شفایابی ہے جو ہسپتال میں داخل ہونے کے قدرتی ذرائع مثلاً گندھک کے پانی والے چشمے اور معدنیات سے لبریز سیاہ ریت سے متعلق ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مصری مارکیٹ میں طبی سیاحت کا ایک مربوط نظام ہے کیونکہ اس میں 50 سے زیادہ ہسپتالوں سمیت تقریباً 361 صحت کی سہولیات شامل ہیں جن کے پاس مصری منظوری اور نگرانی کے سرٹیفکیٹ ہیں۔ اس کے علاوہ تمام شعبہ جات میں سینئر ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

خطیر آمدن

قبل ازیں مصری وزارتِ صحت و آبادی کے سرکاری ترجمان حسام عبدالغفار نے ’’العربیہ بزنس‘‘ کو بتایا، ان کا ملک اس بات کا خواہاں ہے کہ "دنیا میں سب سے زیادہ طبی سیاحت حاصل کرنے والے ممالک میں سرِفہرست پانچ سٹیشنز میں شامل ہو اور عالمی طبی سیاحت کی آمدنی کا 10 فیصد حاصل کرے" یعنی 11.5 بلین ڈالر سالانہ کے برابر۔

مصر کی وزارتِ سیاحت کے تخمینے کے مطابق مصر نے 2023 میں 13.2 بلین ڈالر سے زیادہ سیاحت کی مد میں آمدنی حاصل کی اور تقریباً 15 ملین سیاحوں کا خیر مقدم کیا۔

"سعودی ۔ جرمن" ہسپتال

اس کے علاوہ مصر اور شمالی افریقہ میں سعودی جرمن ہسپتالوں کے گروپ کے علاقائی ڈائر یکٹر محمد حبلاس نے ’’العربیہ بزنس‘‘ کو بتایا کہ گروپ کا مقصد مصر میں اپنے ہسپتالوں میں غیر ملکیوں کی تعداد کی شرح 30 فیصد تک بڑھانا ہے جو اس وقت 10 فیصد ہے۔

حبلاس نے مزید کہا کہ گروپ کا مقصد آئندہ عرصے کے دوران مصر میں فراہم کی جانے والی طبی سیاحت کی خدمات کو متعدد افریقی مارکیٹوں میں فروغ دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں