کیا بائیڈن انتظامیہ اپنے پانچ یرغمالیوں کے لیے حماس کے ساتھ معاہدے پر غور کرر رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’این بی سی‘ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 5 امریکی قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ یکطرفہ معاہدے پر بات چیت کے امکان پرغور کیا جا رہا ہے۔

ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے ان عہدیداروں سے منسوب ایک خبر جس میں ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی کے حوالے سے کہاکہ وہ اس بات چیت سے آگاہ ہیں۔ اس طرح کے مذاکرات میں اسرائیل شامل نہیں ہوگا۔ امریکہ حماس کے ساتھ قطر کے ذریعے بات کرے گا۔

عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بات چیت ایسے ہی ہے جیسے حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے بات چیت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

نیٹ ورک کے مطابق حکام یہ نہیں جانتے کہ امریکی قیدیوں کی رہائی کے بدلے واشنگٹن حماس کو کیا پیشکش کر سکتا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ حماس کو امریکہ کے ساتھ یکطرفہ معاہدہ کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے، مگر ساتھ ہی اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تلخی بڑھ سکتی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ اگر موجودہ امریکی تجویز غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہے تو بائیڈن انتظامیہ اور حماس کے درمیان معاہدے پر بات چیت کی کوشش کا خیال ایک "انتہائی حقیقت پسندانہ آپشن" ہوگا۔

بائیڈن نے حال ہی میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس تجویز کے پہلے مرحلےمیں چھ ہفتے تک جاری رہنے والی عارضی جنگ بندی ہے جو اگلے دو مراحل کے بعد مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہوجائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں