امریکی و اسرائیلی جاسوسوں کے مشترکہ سیل کے ارکان گرفتار کیے ہیں: حوثی انٹیلی جنس چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کےجاسوسی کے ایک مشترکہ سیل کا پتہ چلانے کے بعد اس کو گرفتار کر لیا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے یہ بات پیر روز سامنے آئی ہے۔ اس سے کئی روز قبل اقوام متحدہ کے ایک درجن کے لگ بھگ افراد کو نظر بند کی اطلاع بھی سامنے آچکی ہے۔

یمن کے ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے حوثی انٹیلی جنس چیف عبدالحکیم الاخوانی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گرفتار کیے گئے مبینہ جاسوسی سیل میں ایک یمن میں امریکی سفارت کے سابق سٹاف ممبر بھی شامل ہے۔

عبدالحکیم الاخوانی کے مطابق 'اس امریکی و اسرائیلی جاسوسی سیل کے ذمہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات کر کے یمن میں خوف اور تباہی پھیلا نے کے واقعات ممکن بنانا تھا ۔ نیز سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں دشمن کے مقاصد کے لیے نیٹ ورکنگ کرنا تھی۔'

دعوے کے مطابق 'جاسوسی سیل میں شامل انتظامی عہدوں پر موجود افراد اور امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے اہلکار اپنی پوزیشن کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے جاسوسی اور دہشت گردی کی سرگرمیاں ممکن بناتے تھے۔'

یمنی حوثیوں کے انٹیلی جنس چیف نے مزید انکشاف کیا ہے کہ 'جب سے امریکہ نے صنعا میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے تب سے یہ جاسوسی سیل اقوام متحدہ کے دفاتر اور اداروں سمیت بین الاقوامی اداروں کے کور میں چھپ کر کام کرنے لگا۔ ' اس سیل نے گویا کبھی یمن میں اپنے منصوبے روکے نہیں تھے۔ خیال رہے امریکہ نے یمن میں اپنا سفارت خانہ 2014 میں ہی بند کر دیا گیا تھا۔

یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے افراد کے بارے میں ان انکشافات پر ابھی اسرائیل کے کسی حکومتی یا سرکاری ذمہ دار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ امریکہ کے دفتر خارجہ نے بھی اس بارے میں فوری طور پر کچھ تبصرہ نہیں کہا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کے حکام نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ 'ادارہ اپنے 11 گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ ' ان میں اقوام متحدہ کے پانچ مختلف اداروں کے افراد کے علاوہ یمن میں اقوام متحدہ کے سفیر بھی شامل ہیں۔

جاسوسی کے خلاف آپریشن کے دوران ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی کارروائی کے دوران امریکہ کے فنڈز سے چلنے والے اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارے ' نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے تین اہلکاروں کے علاوہ ایک انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کے اہلکار بھی گرفتار کیے گئے ان سب پر الزام ہے کہ یہ سب امریکی و اسرائیلی شہری ہیں جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے کیے کام کرنے والے ادارے کے تین تین افراد گرفتار ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں