حملے سے صحت یاب ہو رہی ہوں: وزیرِ اعظم ڈنمارک، بڑھتی ہوئی عوامی جارحیت سے خبردار کیا

حالیہ برسوں میں عوامی عملداری میں تبدیلی دیکھی ہے: میٹ فریڈرکسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن نے منگل کو کہا، وہ گذشتہ ہفتے وسطی کوپن ہیگن میں ہونے والے حملے سے جسمانی اور ذہنی طور پر صحت یاب ہو رہی ہیں اور عوامی سطح پر مزید جارحیت کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ایک 39 سالہ پولش شخص کو اس حملے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی گردن پر معمولی چوٹ آئی تھی۔ حکام نے بتایا کہ حملہ آور اس وقت شراب اور منشیات کے زیرِ اثر تھا اور حملے کے کسی سیاسی مقاصد کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

فریڈرکسن نے نشریاتی ادارے ڈی آر کو ایک انٹرویو میں کہا ، "میں ابھی تک بہتر محسوس نہیں کر رہی۔ میں بطورِ وزیرِ اعظم اپنے معاملات دیکھتی ہوں اور ہمیشہ دیکھتی رہوں گی۔ میں ہفتے کے آخر میں بھی اس قابل تھی لیکن اس طرح نہیں جس طرح میں عام حالات میں ہوتی ہوں۔"

سلواکیہ کے وزیرِ اعظم رابرٹ فیکو کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے صرف تین ہفتے بعد یہ حملہ ہوا۔

فریڈرکسن نے کہا، انہوں نے حالیہ برسوں میں عوامی عملداری میں تبدیلی دیکھی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم سب [سیاسی] جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دیکھتے ہیں کہ حدود انتہائی تیزی سے بدل رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایک طویل عرصے سے دھمکیاں آتی رہی ہیں، سوشل میڈیا پر بہت سخت لہجے میں جو مزید خراب ہو گیا ہے اور خاص طور پر شرقِ اوسط کی جنگ کے بعد۔ عوام میں بہت زیادہ چیخ و پکار ہے۔ لوگ بہت زیادی جارحانہ انداز میں سلوک کر رہے ہیں۔"

بائیسکل کے لیے دوستانہ ماحول کا حامل چھوٹے سا ملک سروے میں دنیا کے مسرور ترین ممالک میں سے ایک رہا ہے اور ڈنمارک کے باشندے اپنی جامعیت، مساوات اور فیاضانہ فلاحی ماڈل پر فخر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمیں ایک ایسے ملک پر فخر ہے جہاں وزیرِ اعظم سائیکل چلا کر کام کے لیے جاتے ہوں۔"

انہوں نے کہا، "لیکن ایک تبدیلی آگئی ہے۔ میں نے ہمیشہ خود کو دستیاب رکھا ہے لیکن سڑکوں کا منظر بدل گیا ہے اور کچھ جگہوں پر ہم مزید نہیں جا سکتے، کم از کم ہم سیاستدانوں میں سے کچھ افراد۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں