ملاوی کے نائب صدر کا طیارہ جنگل میں لاپتا، خراب موسم میں ریسکیو آپریشن جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملاوی کے نائب صدر اور نو دیگر افراد کو لے جانے والا طیارہ کل سوموار کی شام سے ریڈار سے غائب ہونے کے بعد خراب موسم میں جنگل میں طیارے کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

ملاوی کے صدر ’لازارس چکویرا‘ کی ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ انہوں نے بہاماس جزیرے کا کا طے شدہ ورکنگ دورہ منسوخ کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلح افواج کو لاپتا ہونے والے طیارے کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن کرنے کا حکم دیا ہے۔

صدر چکویرا نے مزید کہا کہ ان کے نائب ڈاکٹراکاون سالہ ساؤلوس چلیما کو لے جانے والا طیارہ فوجی تھا۔ وہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 7:17 بجے دارالحکومت لیلونگوے سے صبح روانہ ہوا، لیکن 45 منٹ بعد مززو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طے شدہ وقت پرنہیں پہنچا۔ ملاوی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے طیارے کی تلاش میں مدد کے لیے پڑوسی ممالک اور سفارتی شراکت داروں سے رابطہ کیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی، برطانوی، نارویجن اور اسرائیلی حکومتوں نے تمام قسم کے تعاون کی پیشکش کی ہے جس میں خصوصی ٹیکنالوجی کے استعمال سے طیارے کو جلد تلاش کرنے کی ہماری صلاحیت میں اضافہ ہوگا تاہم منگل کی صبح تک 24 گھنٹے گذرجانے کے باوجود طیارے کا پتا نہیں چل سکتا۔ لگتا ہے کہ وہ پہاڑی علاقے کے گھنے جنگلوں میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

ساؤلوس چلیما سے 2022 میں ان کے اختیارات چھین لیے گئے تھے جب ان پر رشوت ستانی کے ایک اسکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا جس میں ملاویائی نژاد برطانوی تاجر شامل تھے۔ بعد میں عدلیہ نے کئی سماعتوں کے بعد ان الزامات کو ختم کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ مئی کے وسط میں ایران میں صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کےدوران پہاڑی علاقے میں گرکر تباہ ہوگیا تھا۔ اس حادثے میں ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت سات دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں