کیلیفورنیا پبلک یونیورسٹی میں فلسطینی حامی ہڑتال کا خاتمہ

ہڑتال کرنے والے ملازمین کام پر واپس آ گئے لیکن یونین نے مزید احتجاج کرنے کا عزم ظاہر کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ہزاروں تعلیمی کارکنان جنہوں نے فلسطینی حامی مظاہروں پر یونیورسٹی منتظمین کے ردِعمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چھ کیمپسز میں ہڑتال کی تھی، وہ عدالتی حکم کے تحت پیر کو ملازمت پر واپس آگئے لیکن ان کی یونین نے مزید احتجاج کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

اورنج کاؤنٹی کی عدالتِ عظمیٰ کے جج نے جمعہ کے اواخر میں یونیورسٹی کا درخواست کردہ ایک عارضی حکمِ امتناعی منظور کر لیا جس میں زور دیا گیا کہ واک آؤٹ غیر مزدور مسائل کی وجہ سے ہوا اور اس نے یونین کے معاہدے میں موجود عدم ہڑتال کی شق کی خلاف ورزی کی۔

یونیورسٹی کے حکام نے اصل میں کیلیفورنیا کے پبلک ایمپلائمنٹ ریلیشن بورڈ کو درخواست دی تھی لیکن پینل نے دو بار ان کی طرف سے حکمِ امتناعی کی درخواست مسترد کر دی۔

یونین کے ماتحت تعلیمی محققین، گریجویٹ ٹیچنگ اسسٹنٹس اور پوسٹ ڈاکٹریٹ سکالرز نے ملازمت سے ہڑتال کر دی تھی۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں یونیورسٹی کی طرف سے فلسطینی حامی مظاہروں سے نمٹنے میں مزدوری کے غیر منصفانہ طریقوں کو اس کی وجہ قرار دیا۔

کام روکنے کا اہتمام یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین لوکل 4811 نے کیا تھا جو 10 کیمپسز اور لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری میں تقریباً 48,000 غیر ملازمتی تعلیمی ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے۔

احتجاجی ہڑتال 20 مئی کو یو سی سانتا کروز کیمپس میں شروع ہوئی تھی اور اگلے دو ہفتوں کے دوران اس کا دائرہ یو سی ایل اے، سیکرامنٹو کے نزدیک یو سی ڈیوس اور سین ڈیاگو، سانتا باربرا اور اِروِن کے کیمپس تک پھیل گیا۔ ان چھ کیمپسز میں یو اے ڈبلیو کے تقریباً 31,500 اراکین ہیں۔ یو سی سسٹم میں کل 10 کیمپس ہیں۔

یو سی کی معاون نائب صدر برائے لیبر ریلیشنز میلیسا میٹیلا نے پابندی کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ہڑتال کا تسلسل "طلبہ کی تعلیمی کامیابیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا اور آخری سہ ماہی میں اہم تحقیقی منصوبوں کو روک سکتا تھا۔"

جج رینڈل شرمن نے حکمِ امتناعی میں توسیع کے بارے میں دلائل سننے کے لیے 27 جون کو سماعت مقرر کی۔ یونین کی اپنی ہڑتال کی اجازت 30 جون کو ختم ہو رہی ہے۔

یو اے ڈبلیو 4811 کے رہنماؤں نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جج نے عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر مزدوری کے معاملے میں مداخلت کرکے ایمپلائمنٹ ریلیشن بورڈ کے اختیار کی خلاف ورزی کی۔

اس کے باوجود یونین نے کہا کہ اس کے ارکان عدالتی حکم کی پابندی کر رہے ہیں۔ یو اے ڈبلیو نے کہا کہ وہ اپنی کوششوں کو یونیورسٹی کے خلاف ایک آئندہ شکایت کی کارروائی پر مرکوز رکھے گا۔

دیگر چیزوں کے علاوہ یونین گریجوایٹ طلباء اور دیگر تعلیمی کارکنان کے لیے معافی کا مطالبہ کر رہی ہے جنہیں فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے فوجی حملے کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں گرفتار کیا گیا یا انہیں تادیبی کارروائی کا سامنا ہے۔

یہ ہڑتال یونین کا حمایت یافتہ پہلا احتجاج ہے جو حالیہ مہینوں میں درجنوں امریکی کیمپسز میں فلسطینی حامی طلباء کی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہے۔

یو اے ڈبلیو نے کہا کہ وہ منگل کو یو سی ڈیوس اور بدھ کو یو سی ایل اے میں اضافی احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

یونین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ دو مئی کو جب یو سی ایل اے میں پولیس نے فلسطینی حامی احتجاجی کیمپ گرا دیا تھا تو اس موقع پر 210 افراد کی گرفتاری ہڑتال کا ایک بڑا محرک تھی جن میں کیمپس میں ملازمت کرنے والے گریجوایشن کے طلباء بھی شامل تھے۔

لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح نقاب پوش حملہ آوروں نے ایک رات قبل کیمپ اور اس کے مکینوں پر حملہ کیا جس سے ایک خونی تصادم ہوا جو پولیس کے امن بحال کرنے سے پہلے کم از کم تین گھنٹے تک جاری رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں