.

شامی دانشور اسدی گماشتوں کے بیہمانہ تشدد سے جاں بحق

میت ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے ایک ممتاز دانشور، سیاسی امور کے ماہر اور صحافی محمد نمرحماد سرکاری فوج کے تشدد کے باعث کئی روز قبل ہلاک ہو چکے ہیں۔

تشدد کی وجہ سے ہلاکت کے باوجود حساس اداروں کے اہلکار میت کو ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ مقتول کے ورثاء کا کہنا ہے کہ انہیں نمر المدنی کے قتل کی اطلاع دس روز قبل دی گئی تھی لیکن ان کی میت ہمارے حوالے نہیں کی جا رہی۔



خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے شامی اپوزیشن کے ویب پورٹل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اکاون سالہ محمد نمر المدنی کی میت اس کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے، تاہم مقتول کے ورثاء نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔



مقتول کے ایک قریبی عزیز نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'اے ایف پی' کو بتایا کہ انہیں دس دن قبل سرکاری حکام نے یہ اطلاع دی تھی کہ نمر کو دوران حراست قتل کر دیا گیا ہے اور ان کی میت بھی سرکاری تحویل میں ہے۔



مقتول کے عزیز نے بتایا کہ مارچ 2011ء کو صدر اسد کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک شروع ہونے کے بعد نمر المدنی کو دو مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا۔ پہلی مرتبہ انہیں چار ہفتوں تک تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا لیکن اب انہیں جان سے مار دیا گیا ہے۔



قبل ازیں شامی انقلابی رابطہ کمیٹیوں نے فیس بک پر نمر المدنی کے نام سے فرانسیسی زبان میں خصوصی صفحہ بھی بنایا تھا جس میں ان کے قتل کی تصدیق کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ مقتول محمد نمر المدنی کے تین بچے ہیں۔ وہ ایک صحافی ہونے کے ساتھ ایک مذہبی امور کے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے یہودیوں کی مخالفت میں بھی کئی کتابیں تحریر کیں۔

نمر خود مذاہب اور مسالک کے علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے جرمنی کے نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل اور ہولوکاسٹ کو گمراہ کن نظریہ قرار دیا تھا۔ شامی انقلابی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انقلاب کے دوران نمر المدنی غیر ملکی نشریاتی اداروں کے خفیہ رپورٹنگ بھی کرتے تھے۔