.

عراق دہشت گردی کی پاداش میں 11 افراد کو سزائے موت

پے در پے پھانسیوں پر انسانی حقوق کے حلقے مشوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراقی حکام نے دہشت گردی سمیت دیگر مقدمات میں سزا پانے والے گیارہ افراد کو اتوار کے روز پھانسی دے دی۔ سزا پانے والوں میں ایک الجیرین باشندہ بھی شامل ہے۔ وزارت قانون وانصاف نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب پے در پے پھانسی کی سزا پر عراق اور مغربی دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بغداد حکومت سے کئی بار یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ پھانسی کی سزا پر نظر ثانی کرے۔



بغداد حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ دہشت گردی کے الزام میں عدالتوں سے سزا یافتہ گیارہ افراد کو اتوار کو علی الصباح پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔



قبل ازیں جمعرات کے روز عراقی وزارت قانون نے چھے ملزمان کو پھانسی دینے کی تصدیق کی تھی۔ ان ملزمان پر بھی دہشت گردی سمیت دیگر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ وزارت قانون کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک پھانسی پانے والے ملزمان کی تعداد 113 ہو چکی ہے جبکہ پچھلے سال مجموعی طور پر 86 ملزموں کو سزائے موت دی گئی۔



عراق میں ملزمان کو موت کی دی جانے والی سزاؤں پر اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی نے سنہ 2004ء کے بعد سے کئی بار بغداد حکومت سے موت کی سزا پر نظرثانی کی اپیل کی تھی لیکن حکومت نے کسی عالمی ادارے کی اپیلوں پر توجہ نہیں دی۔