.

شام نے اردن میں افراتفری پھیلانے کی سازش تیار کی تھی العربیہ لیکس

حکومت مخالف تحریک سے توجہ ہٹانے کے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دبئی سے نشریات پیش کرنے والے العربیہ ٹیلی ویژن کے برادر ٹی وی چینل 'العربیہ الحدث' پر شام کے حساس اداروں سے حاصل کردہ خفیہ دستاویزات کی نئی نشر کردہ قسط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر اسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک سے دنیا اور بالخصوص خطے کی توجہ ہٹانے کے لیے شامی حساس اداروں نے پڑوسی ملک اردن میں بدامنی پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔



خفیہ دستاویزات کے مطابق عوامی بغاوت کے دوران صدر بشار الاسد کے مخالفین کی بڑی تعداد کو اپنے ہاں پناہ دینے پر دمشق، عمان سے سخت نالاں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شام میں جاری عوامی بغاوت کی تحریک کو اردن برآمد کرنے کی اسکیم تیار کی گئی، جسے اردنی حکومت نے ناکام بنا دیا۔ یہ سب دمشق حکومت پر عالمی دباؤ کو کم کرنے کی تدبیر تھی تاکہ دنیا کی توجہ شام کے بجائے اردن کی جانب موڑی جا سکے۔



العربیہ الحدث کی رپورٹ کے مطابق شامی انٹیلی جنس کے چیف اور صدر بشار الاسد کے کزن ذوالھمہ شالیش نے تین دسمبر2011ء بیرون ملک انٹیلی جنس آپریشنل کمانڈر فواد فاضل کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں اردن میں بدامنی پھیلانے کے مجوزہ منصوبے کے خدوخال سے انہیں آگاہ کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت غیر شامی جنگجوؤں کے ذریعے اردن میں حکومتی تنصیبات پر حملے کرائے جائیں گے۔ اس کام کے لیے اردن میں پہلے سے کشیدگی کے شکار علاقوں کو چنا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت اردن میں حکومت مخالف گروپوں کو اسلحہ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ خود کو منظم کرنے کے بعد سرکاری تنصیبات پر حملے کریں۔ مراسلے کے مطابق اردن میں کی کرائی جانے والے کارروائیوں کو شامی باغیوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ شامی اپوزیشن کو بدنام کیا جا سکے۔



مراسلے میں جنرل شالیش نے فواد فاضل کو مزید ہدایت کی ہے وہ اردن میں پرامن مظاہرین کو مسلح کرنے اور بہ وقت ضرورت افرادی قوت کے ذریعے ان کی مدد کا انتظام کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردن میں حملوں کے لیے عمان سمیت مختلف شہروں میں شامی انٹیلی جنس کے دفاتر کے قیام کا بھی حکم دیا تھا تاکہ ان مراکز کے ذریعے اردن میں بدامنی کو منظم انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔



ایک دوسرے مراسلے میں شام کے بیرون ملک انٹیلی جنس چیف فواد فاضل کو شامی حکومت کی طرف سے موصولہ مراسلے میں تحریر کیا گیا تھا کہ اردن میں موجود شامی اپوزیشن اور عمان حکومت کی اہم شخصیات کے قتل کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ شام، اردن میں موجود اپوزیشن کی اہم شخصیات کے ٹھکانوں کی تلاش اور ان کی نشاندہی کے لیے جاسوس بھی بھیجے گا۔



العربیہ کو موصولہ شامی انٹیلی جنس کے ایک اور برقیے کے ذریعے معلوم ہوا کہ چند ماہ پیشتر شام کے بیرون ملک سراغ رسانی کے شعبے کے سربراہ ولید عبدالرحمان نے شامی حکومت کو ایک مراسلہ روانہ کیا تھا۔ اس مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ شام میں کشیدگی کے بعد اس کے اثرات اردن میں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ اردن میں غیر معمولی گھٹن کی فضاء پیدا کرنے کے لیے کئی ایسے اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے کئی شہروں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ولید عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ اردن میں ہونے والی کارروائیوں کو وہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اردن سپریم کوآرڈی نیشن کمیٹی کے نام سے ظاہر کر رہے ہیں، جس سے شام کا نام سامنے نہیں آ رہا ہے۔