.

اردن عام انتخابات سے قبل نئے وزیر اعظم کا تقرر

آئینی اصلاحات کے تحت پارلیمان کی تحلیل کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے پارلیمانی انتخابات سے قبل معروف سیاست دان عبداللہ نصر کو نیا وزیر اعظم مقرر کی ہے۔

شاہِ اردن نے گذشتہ جمعرات کو قبائلی سرداروں کی بالادستی والی پارلیمان کو اس کی آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی تحلیل کر دیا تھا اور ملک میں وسط مدتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

اردن کے شاہی محل کے ذرائع کے مطابق شاہ عبداللہ نے بدھ کو وزیر اعظم فايز الطراونة اور ان کی حکومت کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور عبداللہ نصر کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

اس ذریعے کے مطابق طراونہ نے حال ہی متعارف کردہ آئینی اصلاحات کے تحت استعفیٰ دیا ہے۔ان میں یہ کہا گیا ہے کہ حکومت کو پارلیمان کی تحلیل کے بعد وزیر اعظم کو بھی مستعفی ہو جانا چاہیے۔

شاہ عبداللہ دوم نے پارلیمان کی تحلیل کے بعد نئی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا۔ اب حال ہی میں قائم کردہ آزاد الیکشن کمیشن عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گا اور توقع ہے کہ آیندہ سال کے آغاز میں یہ انتخابات کرائے جائیں گے۔

اردن کے نئے وزیر اعظم 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں مختلف حکومتوں میں خارجہ امور، منصوبہ بندی، تعلیم اور اطلاعات کے وزیر رہ چکے ہیں۔وہ گذشتہ ڈیڑھ ایک سال میں اردن کے پانچویں وزیر اعظم ہیں۔ واضح رہے کہ شاہ عبداللہ اکثر قبائلیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت ہی کو تبدیل کردیتے ہیں لیکن حال ہی میں خود اردنی شاہ کو ان قبائلیوں کی جانب سے پہلی مرتبہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے ان کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔

شاہِ اردن نے عبداللہ نصر کو آیندہ سال کے آغاز میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک عبوری دور کے لیے حکومت بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ انتخابات کے ضمن میں درکار اصلاحات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

گذشتہ جمعہ کو عمان میں اسلامی پسندوں اور دوسری جماعتوں نے اصلاحات کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں ،صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں۔ اسلام پسندوں کا کہنا ہے کہ ''نئے انتخابی قوانین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے قبائلیوں کی حمایت کی گئی ہے''۔

واضح رہے کہ دوسرے عرب ممالک کی طرح اردن میں بھی گذشتہ سال جنوری کے بعد سے سیاسی اصلاحات کے حق میں وقفے وقفے سے مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سابق ارکان پارلیمان، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے نمائندے ملک میں حقیقی آئینی اصلاحات کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔

شاہ عبداللہ دوم نے اگست 2011ء میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد آئین میں ترامیم کا اعلان کیا تھا۔آئینی ترامیم کے تحت پارلیمان کی رکنیت کے لیے امیدوارکی حد عمر پینتیس سال سے کم کرکے پچیس سال کر دی گئی تھی اور فوجی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت کا دائرہ کار بھی محدود کر دیا گیا تھا اور اس کو صرف بغاوت، جاسوسی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت تک محدود کر دیا گیا تھا۔