.

زم زم میں عام پانی کی ملاوٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں السدیس

"متبرک پانی کا سوتا پوری مقدار و رفتار سے جاری ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مسجد حرام اور مسجد نبوی کی نگران کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے زم زم کنوئیں سے متبرک پانی کا سوتا خشک ہونے یا اس میں عام پانی کی ملاوٹ سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ "ایسی افواہیں پھیلانے والے اللہ کی قدرت میں شکوک وشبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ زم زم کنویں سے متبرک پانی کے فیض میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ اس میں عام پانی کی ملاوٹ کی جا رہی ہے۔"

العربیہ ٹی وی نے ڈاکٹر السدیس کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں معروف سعودی عالم دین نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مسجد حرام میں آب زم زم خالص حالت میں دستیاب ہے اور اس میں ملاوٹ کی خبریں قطعی بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی یحکومت نے آب زم زم کو عام پانی کی ملاوٹ سے پاک رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رکھے ہیں۔ زم زم کنوئیں کے اردگرد زیر زمین سروے سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ کنویں کے آس پاس پانی کا کوئی دوسرا ذخیرہ موجود نہیں۔

شیخ السدیس نے زائرین حرم، بالخصوص حجاج کرام، پر زور دیا ہے کہ وہ زم زم کے پانی میں ملاوٹ کے بارے میں افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ حسب ضرورت اس تبرک کا استعمال عقیدت اور احتیاط سے جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ زم زم اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے کی جگہ سے جاری ہوا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیماریوں کے شفاء قرار دیا۔ اس متبرک پانی کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش ایک سازش ہی نہیں بلکہ اللہ سبحانہ تعالی کی نشانیوں سے انکار کے مترادف ہے۔