.

شام میں حزب اللہ کے 75 جنگجوؤں کی ہلاکت کی متضاد اطلاعات

ایران کا مسافر بوئنگ طیارہ تل ابیب میں اتار لیا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں لبنانی حزب اللہ کے 75 جنگجوؤں کی ہلاکت کی متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایران کے 'شیعہ آن لائن' پورٹل نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شام اور لبنان کی سرحد قریب مارے گئے جبکہ بعض دوسری رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے جنگجو حمص میں لبریشن آرمی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔



'شیعہ آن لائن' کے مطابق حزب اللہ کے جنگجو شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں نہیں مارے گئے بلکہ انہیں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے اغواء کے بعد قتل کر دیا تھا۔



رپورٹ کے مطابق موساد کی یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل میں ڈیمونا ایٹمی پلانٹ کی جاسوسی کے لیے بغیر پائیلٹ جہاز بھیجنے کا انتقام لینے کی خاطر کی گئی ہے۔ جاسوس طیارے کو صہیونی فوج نے ایک ہفتہ قبل غزہ کے قریب بحر متوسطہ پر پرواز کے دوران مار گرانے دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیلی حکام نے جاسوس طیارہ روانہ کرنے کا الزام حزب اللہ اور ایران کے سر تھوپا ہے۔



حزب اللہ کے کارکنوں کے قتل کا یہ واقعہ جاسوس طیارہ مار گرائے جانے کے چند ہی دن بعد پیش آیا۔ ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' کی اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے جنگجو ایرانی ایئر لائن 'ھما' کے مسافر جہاز میں سوار تھے جسے اسرائیلی جنگی جہازوں نے پرواز کے دوران گھیر کر تل ابیب میں اتار دیا تھا۔



فارس کی رپورٹ میں اس خبر کے ذرائع کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ البتہ اتنا ضرور بتایا ہے کہ ایرانی بحریہ کے فوجی کشتیوں کے دو کپتانوں نے دوربین کی مدد سے ایرانی مسافر طیارے کے فضاء میں گھیراؤ کا منظر دیکھا ہے۔ ایرانی فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی پرچم بردار جنگی جہازوں نے ان کے سامنے ایک سفید رنگ کے مسافر طیارے کو گھیر کر اسے تل ابیب ہوائی اڈے پر اترنے پر مجبور کیا تھا۔ اس جہاز پر حزب اللہ کے ارکان بھی سوار تھے۔



ایرانی خبر رساں ادرے کی رپورٹ پر بعض دوسرے ذرائع ابلاغ اور اخبارات نے استفسار کیا ہے کہ حزب اللہ کے جن 75 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا گیا ہے کیا وہ واقعی شام اور لبنان کی سرحد کے قریب موساد کی کارروائی میں مارے گئے تھے یا نہیں۔ یا پھر وہ ایرانی ایئر لائن کے جہاز میں سوار تھے؟۔



دوسری جانب شامی اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے کئی درجن جنگجو ان کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار 'ٹائمز آف اسرائیل' کے مطابق حزب اللہ کے جنگجو حمص میں باغیوں کے ایک کمین گاہ سے کیے گئے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ حزب اللہ نے اپنے پچہتر جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد شامی قصبے القصیر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے بھی کیے۔ تاہم ان میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ شام کی حزب اختلاف نے ایران اور حزب اللہ دونوں پر صدر بشار الاسد کی حمایت میں اپنے جنگجوؤں کو شام میں بھیجنے اور شہریوں کے قتل عام میں مورد الزام ٹھہرایا ہے۔