.

عوامی تحریک میں نہتے مظاہرین کے قاتل مصری عدالت سے بری

نامزد ملزموں میں مبارک دور کے اعلی عہدیدار شامل تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی ایک فوجداری عدالت نے گزشتہ برس فروری میں معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کے موقع پر قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں پرامن مظاہرین کے قتل میں ملوث تمام ملزموں کو بری کر دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ملک کے طول و عرض سے اس کے خلاف شدید عوامی ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا میں 'اونٹ لڑائی' کے نام سے مشہور 2-3 فروری کے کریک ڈاؤن کی پاداش میں سابق حکومت کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کے خلاف آپریشن میں ہلاک ہونے والے مظاہرین نے عدالتی کارروائی کی درخواست کی تھی۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق جج مصطفی حسن عبداللہ کی سربراہی میں قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے 'اونٹ لڑائی' میں نامزد تمام سرکردہ ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ان میں اس وقت کی مصری پارلیمنٹ [پیپلز اسمبلی] کے اسپیکر ڈاکٹر فتحی سرور، سابق مجلس شوری کے سربراہ صفوت الشریف، تحلیل شدہ سابق حکمران جماعت نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری ماجد الشربینی، دفاعی پیداوار کے سابق وزیر محمد الغمراوی سمیت متعدد دوسرے اعلی عہدیدار شامل تھے۔

درایں اثناء سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 'اونٹ لڑائی' کے مشہور مقدمے میں بری قرار دیئے جانے والے نامزد ملزموں کو عدالتی فیصلے کے بعد دوبارہ طرہ جیل بھجوا دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں جمعرات کی صبح رہائی ملے گی۔ تاہم ان میں شامل فتحی سرور اور صفوت الشریف بدستور طرہ جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان کے خلاف غیر قانونی طریقوں سے مال بنانے کے الزام میں ابھی متعدد مقدمات دیگر مصری عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔