.

شامی طیارے میں روسی فوجی ساز وسامان تھا ترک وزیر اعظم

ترک حکام ضبط شدہ سامان کا جائزہ لے رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ انقرہ میں بدھ کی شام اتارے گئے شامی طیارے میں روس سے بشارالاسد حکومت کے لیے بھیجے گئے فوجی آلات اور گولہ بارود موجود تھا۔

ترکی کے این ٹی وی نیوز چینل سے جمعرات کو نشر ہونے والے ایک بیان میں رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ''طیارے پر روس کے ایک فوجی سپلائیر نے شام کی وزارت دفاع کے لیے بِھیجا گیا سازوسامان اور گولہ وبارود تھا''۔ تاہم انھوں نے اس روسی ادارے کا نام نہیں لیا۔

انھوں نے یہ بھی بتانے سے گریز کیا ہے کہ ترکی کو شامی طیارے میں اسلحے کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کہاں سے ملی تھیں؟ان معلومات کی روشنی میں ترک فضائیہ کے دو ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے شام کے مسافر بردار طیارے کو زبردستی انقرہ کے ہوائی اڈے پر اتار لیا تھا۔

ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ''طیارے سے ضبط کیے گئے سامان کا متعلقہ محکمے جائزہ لے رہے ہیں''۔اس طیارے کو نو گھنٹے تک انقرہ کے ہوائی اڈے ہر روکے رکھا گیا تھا اور پھر اس کو اس کی منزل مقصود دمشق کی جانب جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ تاہم اس میں لدا ہوا سامان ترک حکام نے اتار لیا تھا ۔شامی پرواز میں پینتیس مسافر سوار تھے اور ان میں سترہ روسی شہری تھے۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو سے آنے والے شامی طیارے کے پائیلٹ کو خبردار کیا گیا تھا کہ اس کے طیارے کو اتار لیا جائے گا۔اسے ایک موقع بھی دیا گیا تھا لیکن اس نے اس انتباہ کے باوجود اپنا سفر جاری رکھا تھا۔

ترجمان نے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ طیارے کے مسافروں سے کوئی ناروا سلوک کیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسافروں کو طیارے سے اترنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ کسی بھی ناگہانی صورت میں مستعد طبی عملہ اور ایک ایمبولینس گاڑی ہوائی اڈے پر تیار کھڑی تھی۔ پہلے شامی پائیلٹ نے طیارے کے اتارے جانے تک مسافروں کی فہرست فراہم نہیں کی تھی جس کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اس میں کتنے روسی تھے۔

ترک وزارت خارجہ نے الگ سے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے سول ایوی ایشن کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر شام سے باضابطہ احتجاج کیا ہے اور شام کی فضائی حدود کو ترک طیاروں کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔

شام کے ٹرانسپورٹ کے وزیر محمد ابراہیم سعید نے اپنے ملک کا مسافر طیارہ زبردستی اتارے جانے پر ترکی پر ''فضائی قزاقی'' کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام سول ایوی ایشن کے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی نے کسی وضاحت کے بغیر قونصلر حکام اور ایک ڈاکٹر کو طیارے کے مسافروں تک رسائی دینے سے انکار کردیا تھا۔

روس نے ترک حکام سے شام کا مسافر طیارہ اتارے جانے کی وضاحت بھی طلب کی ہے۔روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک حکام نے طیارے میں سوار سترہ روسی شہریوں تک سفارت کاروں کو رسائی دینے سے انکار کر دیا تھا۔

روس کے اسلحہ برآمد کرنے والے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ شام کے مسافر طیارے میں کوئی اسلحہ یا فوجی آلات نہیں تھے۔ اس ذریعے کا کہنا ہے کہ اگر شام کو روسی اسلحہ بھیجنے کی ضرورت پیش آئی تو یہ کام کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر کیا جائے گا اور اسے مسافر طیارے کے بجائے مال بردار طیارے میں بھیجا جائے گا۔