.

حزب اللہ کا اسرائیل میں جاسوس طیارہ بھیجنے کا اعتراف

جاسوسی طیارہ ایرانی ساختہ تھا: حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کی طاقتور ملیشیا حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ حسن نصراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل کی فضاء میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارہ ان کی تنظیم نے بھیجا تھا۔ اس طیارے کے بعض حصے ایران میں تیار ہوئے اور اسے لبنان میں اسمبل گیا کیا گیا۔



حزب اللہ کے 'المنار' ٹی وی پر شیخ حسن نصراللہ کے نشر کردہ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ "ہمارا جاسوس طیارہ اسرائیل کی حساس تنصیبات پر کئی کلومیٹر فضاء میں محو پرواز رہا۔ بالخصوص اس جاسوس طیارے کے ذریعے اسرائیل کے"ڈیمونا" ایٹمی پلانٹ کی بھی جاسوسی کی گئی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ جاسوس طیارہ بھیج کر ہم نے دشمن پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مزاحمتی قوتیں اب اتنی کمزور نہیں رہی ہیں۔ ہم بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں لیکن ہم اپنی جنگی صلاحیت کو وقت سے پہلے افشاء نہیں کرتے ہیں۔ یہ تو فقط ہماری صلاحیت کا ایک معمولی اظہار تھا جس کا انکشاف کیا گیا۔ وقت آنے پر ہم دشمن کے سامنے مزید حیران کن انکشافات بھی کریں گے‘‘۔



شیخ حسن نصراللہ نے مزید کہا: "یہ بات ہم اسرائیلیوں پر چھوڑتے ہیں کہ طیارے کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے نتائج کیا ہوں گے لیکن اس طیارے نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ ہم فضاء، زمین اور سمندر میں انٹیلی جنس کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نوعیت کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا اور ہم نے سمندر اور خشکی میں دشمن کی حساس تنصیبات کی اہم معلومات حاصل کی ہیں۔



انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا جاسوس طیارہ ان علاقوں میں بھی کامیابی سے اڑا کر دکھایا ہے جہاں امریکی، اسرائیلی اور اقوام متحدہ کی امن فوج یونیفل کے راڈار نصب ہیں۔ ہمارا بھیجا گیا جاسوس طیارہ دیر تک صہیونی فضاء میں محو پرواز رہا اور صہیونی فضائیہ اس کی شناخت نہیں کر سکی۔



شیخ حسن نصراللہ نے اسرائیل کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ جاسوس طیارہ سمندری حدود میں تھا اور اسے ایک مخصوص مقام تک لے جانے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفید جھوٹ ہے کہ ہمارا جاسوس طیارہ اسرائیلی فضائیہ کے نرغے میں آیا اور وہ اسے اپنی مرضی سے کنٹرول کرتے رہے ہیں۔ طیارہ ہمارے اپنے کنٹرول میں تھا اور جہاں ہم چاہتے تھے اسے اتارتے اور پھڑ اڑا دیتے تھے۔



خیال رہے گذشتہ ہفتے اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے ایک پہاڑی علاقے میں نامعلوم جاسوس طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا تھا کہ یہ جاسوس طیارہ ایران یا حزب اللہ کا ہو سکتا ہے۔