.

قاہرہ تحریر چوک میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں

ریلیوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں، 110افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مشہور تحریر چوک میں صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے الگ الگ ریلیاں نکالی ہیں اور ان کے درمیان وہاں کنٹرول کے لیے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ لڑائی کے دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں جبکہ ایک سو دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ قاہرہ کے وسط میں واقع آزادی چوک کافی دیر تک میدان کار زار بنا رہا ہے اور صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے دوران پٹرول بموں کے دھماکے بھی ہوئے ہیں۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' نے ایک قریبی اسپتال کے ڈاکٹر کے حوالے سے لڑائی میں ایک سو دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اور وزارت صحت نے اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ صدر مرسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد قاہرہ میں مظاہروں کے دوران تشدد کا یہ بدترین واقعہ ہے۔

مصر کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون سمیت مختلف سیاسی دھڑوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے دور حکومت کے آخری دنوں میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین پر اونٹ چڑھانے کے واقعہ میں ملوث سابق عہدے داروں کی ایک عدالت سے بریت کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کے لیے مظاہروں کی اپیل کی تھی۔اس فیصلے کے خلاف تحریر چوک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان احتجاج کر رہے تھے کہ اس دوران صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ اور بوتلیں برسانا شروع کر دیں۔

قاہرہ کی ایک عدالت نے گذشتہ بدھ کو اپنے فیصلہ میں قرار دیا تھا کہ اس کو اونٹ سواروں اور مظاہرین کو کچلنے کا حکم دینے والے مدعا علیہان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان میں سابق پارلیمان کے اسپیکر فتحی سرور اور معزول صدر کے صفوت الشریف بھی شامل تھے۔

عدالت کے اس فیصلے کے خلاف تحریر چوک میں نماز جمعہ کے بعد دو ہزار سے زیادہ افراد نے مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مصری صدر کے مخالفین اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا ہے۔ صدر مرسی نے اسی شہر میں نماز جمعہ ادا کی۔ انھوں نے جمعرات کو اسکندریہ میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ''ہم کسی کو بھی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہونے دیں گے''۔ ان کی تقریر کے دوران لوگوں نے عدلیہ کو سابق صدر حسنی مبارک کی باقیات سے پاک کرنے کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔

واضح رہے کہ مصریوں کی اکثریت عدالت سے سابق عہدے داروں کی مظاہرین کے قتل عام کے واقعہ میں بریت پر پراسیکیوٹر جنرل کو قصور وار قرار دے رہی ہے اور انھوں نے پراسیکیوٹر جنرل عبدالمجید محمود کو حسنی مبارک کا وفادار قرار دیا ہے۔

صدر مرسی نے عدالتی فیصلے کے خلاف عوام کا غم وغصہ فرو کرنے کے لیے جمعرات کو عبدالمجید محمود کو ان کے موجودہ عہدے سے ہٹا کر ویٹی کن میں سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ مصری قانون کے تحت انھیں ان کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جا سکتا۔

عبدالمجید محمود نے اس فیصلے کی مذمت کی تھی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ مصر کے بااثر ججوں کے کلب نے بھی صدر کے اقدام کی مذمت کی تھی اور اسے آزاد عدلیہ کے خلاف قرار دیا تھا۔

مصر کے سرکاری روزنامے 'الاہرام' کی اطلاع کے مطابق ججز کلب کے سربراہ احمد الزند نے ایک بیان میں کہا کہ ''عدلیہ قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی تقسیم کے تحفظ کے لیے عبدالمجید محمود کی حمایت کر رہی ہے''۔ انھوں نے بتایا کہ ''جج صاحبان موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے''۔ اب اس معاملے پر مصری صدر اور عدلیہ کے درمیان نئی کھینچا تانی شروع ہو گئی ہے۔