.

ابابیل جاسوسی جہاز ڈیمونا ایٹمی پلانٹ پر پرواز کرتا رہا پاسدران انقلاب

ایرانی فوج 'اسٹریٹجک ڈیٹرنس' حاصل کر چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد علی جعفری نے کہا ہے کہ مسلح افواج دفاعی میدان میں 'اسٹریٹیجک ڈیٹرنس' کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

ان کا اشارہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے 'ابابیل' کی جانب تھا جس کے بارے میں لبنانی حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ذریعے اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی پلانٹ سمیت کئی دیگر حساس تنصیبات کی جاسوسی کی گئی ہے۔ حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایرانی ساختہ جاسوس طیارہ کئی سو کلومیٹر اسرائیلی فضاء میں اڑایا۔ یہاں تک کہ اس طیارے نے صحرائے نقب میں قائم اسرائیلی اٹیمی پلانٹ ڈیمونا کے اوپر بھی پرواز کی ہے۔



جنرل محمد علی جعفری کا یہ بیان پاسداران انقلاب کی سرکاری ویب سائٹ اور اس کے فیس بک اکاؤنٹ پر شائع ہوا ہے۔ جنرل جعفری کے نام منسوب اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے ایرانی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات سے بچاؤ کی مکمل صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ ایران کی بری، بحری اور فضائی دفاعی صلاحیت اور اس کی میزائل ٹیکنالوجی اب اسٹریٹیجک ڈیٹرنس کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بیان کے مطابق دفاعی صلاحیت سے جنرل جعفری کی مراد ابابیل جاسوس طیارہ تھا، جسے حال ہی میں حزب اللہ کے ذریعے اسرائیلی فضاء میں بھیجا گیا تھا۔

خامنہ ای کی منہ توڑ دھمکی

درایں اثناء ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کا ملک بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دےگا۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔ خامنہ ای کے اس دھمکی آمیز بیان میں بھی بیرونی جارحیت سے اشارہ اسرائیل ہی کی جانب تھا۔

جمعہ کے روز ایران کے شمال مشرقی شہر بجنورد میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ "ایرانی قوم اسلامی شریعت کے مطابق عمل کرتے ہوئے کسی دوسرے ملک پرحملے میں پہل تو نہیں کرے گی لیکن اگرباہر سے ہمارے اوپر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو ہم حملہ آوروں کے ہاتھ کاٹ ڈالیں گے"۔

انہوں نے نوجوانوں کے جذبات کو مہمیز دیتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کے بوڑھے جوان اور مردو زن پہلے سے زیادہ وطن کےدفاع کے لیے کٹ مرنے کے لیے تیارہیں۔ دشمن نے ایران کی سرزمین میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے لاشیں سنبھالنے کاموقع بھی نہیں دیں گے۔ دشمن کو ہماری دفاعی اور جوابی جنگی صلاحیت کا اندازہ نہیں ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی تقریرمیں فوجیوں سے اپنا تعلق باللہ مضبوط بنانے اور روحانی تطہیر پرزور دیا اور کہاکہ ہماری فتح اور شکست کا دارومدار مادی قوت کے ساتھ ساتھ روحانی بالیدگی پربھی منحصر ہے۔