.

شام میں رونما واقعات سے عراق میں تبدیلی آئے گی طارق الہاشمی

مفرور عراقی نائب صدر نے شامی انقلاب کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی نے شامی انقلاب اور شامی عوام کے آزادی اور وقار کے مطالبے کی حمایت کا اظہار کیا ہےاور کہا ہے کہ شام میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، اس سے عراق میں بھی تبدیلی کی راہ ہموار ہو گی۔

وہ جمعہ کو العربیہ ٹی وی کے ہفتہ وار پروگرام ''نقطة نظام'' میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ ایران کی جانب سے شامی حکومت کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا:''اب یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ایرانی طیارے عراق کی فضائی حدود سے گذر کر شامی صدر بشارالاسد کے لیے امدادی سامان لے جاتے رہے ہیں مگر اب زمینی روٹ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اب شامی حکومت کے لیے امدادی سامان سے لدی ایرانی گاڑیاں ضرباطیہ اور کربلا کے درمیان روٹ کو استعمال کر رہی ہیں اور کسی تلاشی کے بغیر الولید بارڈر کراسنگ سے گذر کر شامی علاقے میں داخل ہوتی ہیں۔میں نے امریکی انتظامیہ اور اپنے ذرائع سے اس اطلاع کی تصدیق کی ہے''۔

طارق الہاشمی کا کہنا تھا کہ ''ایران کی جانب سے شام کو زمینی راستے سے پہنچائے جانے والے امدادی سامان کی مقدار طیاروں کے ذریعے بھیجے گئے سامان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے''۔

انھوں نے عراقی حکومت کے ملک کی فضائی حدود سے گذر کر شام جانے والے طیاروں کی تلاشی سے متعلق بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ''یہی تو جعل سازی ہے۔ان کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ وہ صرف ادویہ اور انسانی امداد لے جانے والے طیاروں کی تلاشی لیں گے اور ہتھیاروں سے لدے طیاروں کو جانے دیں گے''۔

عراق کے سزا یافتہ نائب صدر نے وزیراعظم نوری المالکی پر ملک کے اہل سنت کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات چلانے کا الزام عاید کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ''اس وقت عراقی جیلوں میں قید افراد میں سے نوے فی صد سنی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''نوری المالکی نے عراق کے مستقبل اور استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے اور عراقی عوام کسی بھی وقت ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے جاری ان کی بدعنوانیوں اور جابرانہ پالیسیوں پر زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتے۔اب مایوسی کا شکار لاکھوں عراقی مالکی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور ملک میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہیں''۔

پروگرام میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے اور نوری المالکی کے درمیان ابھی کوئی مصالحت ممکن ہے تو طارق الہاشمی نے اس کا نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ''ہماری سیاسی طلاق واپس نہیں لی جاسکتی۔میں دوبارہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے قابل نہیں ہوں گا۔یہ مکمل ناکامی تھی''۔

سنی مفرور صدر نے مختلف عراقی دھڑوں پر زوردیا کہ وہ نوری المالکی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان کی حمایت ختم کر دیں۔ انھوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ''نوری المالکی عراق کے استحکام اور اس کی سکیورٹی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے متعدد مواقع پر ملک کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ عراق کے بہترین مفاد ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ کر الگ ہوجائیں''۔

واضح رہے کہ عراق کی ایک فوجداری عدالت نے چند ہفتے قبل مفرور نائب صدر کو ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ ان پر اور ان کے محافظوں پر چھے ججوں اور دوسرے سنئیر حکام کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے ایک سو پچاس الزامات عاید کیے گئے تھے۔ طارق الہاشمی پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔

وہ 9 اپریل سے صحت کی وجوہ کی بنا پر ترکی میں مقیم ہیں اور ترکی انھیں ملک بدر کرنے سے انکار کرچکا ہے۔ فرانس میں قائم بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے بھی عراق کی درخواست پر طارق الہاشمی کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں معاونت کے الزام میں ریڈ نوٹس جاری کیے تھے۔

طارق الہاشمی نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو فرقہ واریت پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ الزامات انھیں سیاسی طور پر ختم کرنے کے لیے عاید کیے گئے تھے۔ انھوں نے نوری المالکی کی حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ ان کے محافظوں اور دوسرے ملازمین کو خفیہ جیلوں میں قید کرکے انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گَئے تھے جس کے نتیجے میں ان کے دو محافظ ہلاک ہو گئے تھے مگر عراقی حکومت نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔