.

مصری صدر نے سبکدوش اٹارنی جنرل کو عہدے پر بحال کر دیا

عبدالمجيد محمود کو برطرفی پر سفیر مقرر کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے سبکدوش اٹارنی جنرل عبدالمجيد محمود کے ساتھ ملاقات کی، جس کے بعد موخر الذکر کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔

عبدالمجيد محمود کی بحالی کے بعد وہ بحران ٹل گیا ہے کہ جو گزشتہ روز صدر مرسی کی جانب سے انہیں اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹا کر ویٹی کن میں سفیر مقرر کر دیا گیا۔ عبدالمجيد محمود نے صدر مرسی کی برطرفی کو ماننے سے انکار کر دیا۔

سرکاری ٹی وی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل عدل سید کے حوالے سے بتایا کہ "صدر مرسی اور عبدالمجيد محمود نے ہفتے کے روز ملاقات کی۔" انہوں نے بتایا کہ عبدالمجيد محمود کی بطور ویٹی کن سفیر تقرری دراصل ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھی، جو ملاقات کے بعد ختم ہو گئی۔

صدر مرسی نے جمعرات کے روز عبدالمجيد محمود کو بطور اٹارنی جنرل ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم اٹارنی جنرل نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے عہدے پر کام کروں گا۔ قانون کے مطابق جوڈیشل باڈی کو انتظامی اتھارٹی اپنے عہدے سے ہٹا نہیں سکتی۔

اسلام پسند مصری صدر نے اٹارنی جنرل کو ان کے عہدے سے ہٹاتے وقت ان قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا۔ اس اقدام پر ملک کے عدالتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی کیونکہ صدر پہلے پارلیمنٹ کی تحلیل کے عدالتی فیصلے کو بھی یکطرفہ طور پر کالعدم قرار دے کر عدلیہ کو ناراض کر چکے تھے