.

شام، ترک سرحد پر مُشترکہ نگرانی کے لیے کمیشن بنانے پر تیار

انقرہ کا براہ راست رابطوں کی بحال پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام نے ترکی سے ملحقہ سرحد پر بڑھتی کشیدگی میں کمی اور مشترکہ سرحدی سیکیورٹی کنٹرول کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ شامی وزارت خارجہ کے مطابق دمشق سرحد پار دراندازی کی روک تھام اور باؤنڈری لائن کے آر پار ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے انقرہ حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے شامی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے دمشق سرحدی جھڑپوں اور کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ترک حکومت کے ساتھ تعاون پر تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی کمیشن بھی قائم کیا جا رہا ہے جو باہمی احترام اور خودمختاری کو یقینی بناتے ہوئے سرحدوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ طریقہ کار وضع کرے گا۔



قبل ازیں شام کے اتحادی ملک روس نے دونوں ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے براہ راست رابطے بحال کریں۔ ماسکو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف کا کہنا تھا کہ شام اور ترکی کے درمیان پائی جانے والی سرحدی کشیدگی کے خاتمے کا واحد حل دو طرفہ رابطوں کی بحالی اور اس سلسلے میں مشترکہ حکمت عملی کا وضع کرنا ہے۔



خیال رہے کہ ترکی اور شام کے درمیان تعلقات اسی دن سے کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے جب ڈیڑھ سال قبل شام میں بشار الاسد کےخلاف بغاوت کی تحریک کو دمشق حکومت کی طرف سے فوجی طاقت کے ذریعے کچلنے کی پالیسی اپنائی گئی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے ختم ہوئے اور اب نوبت ایک دوسرے کی سر زمین پرحملوں تک آن پہنچی ہے۔



پچھلے بدھ کو ترکی نے شام کا ایک مسافر طیارہ مبینہ طور پر فوجی ساز و سامان اور اسلحہ کی وجہ سے زبردستی انقرہ اتار لیا تھا۔ شام نے ترکی کے اس دعوے کی تردید کی تھی تاہم دمشق کے حامی روس کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز کے لوڈ میں رڈرار کے سپیئر پارٹس لیجائے جا رہے تھے۔



گزشتہ دنوں ترک جنگی جہازوں نے سرحد کے قریب شامی فوجی ہیلی کاپٹر مار بھگائے تھےجو باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے تھے۔ ترکی سے ملحقہ سرحدی قصبے عزمارین کے مقام پر ہونے والی اس لڑائی میں شامی باغیوں نے سرکاری فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔