.

شامی فوج شہری علاقوں میں کلسٹر بم استعمال کر رہی ہے ایچ آر ڈبلیو

عالمی کنونشن کے تحت پابندی کے باوجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ شام میں سرکاری فوج شہری علاقوں میں حکومت مخالفین کا قلع قمع کرنے کے لیے کلسٹر بم استعمال کر رہی ہے۔

ایچ آر ڈبلیو نے صدر بشار الاسد کی وفادار فوج پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے صوبہ حمص، حلب، للذاقیہ اور دمشق کے علاوہ معرۃ النعمان، تمناعی، تفتانز اور التاہ کے قصبوں میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران کلسٹر بم استعمال کیے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو کے اسلحہ ڈائریکٹر اسٹیو گوز نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شامی فوج باغی جنگجوؤں کے خلاف اپنی فضائی مہم کے دوران شہری آبادی کے تحفظ کا کوئی خیال نہیں رکھ رہی ہے اور وہ شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں کلسٹر بم پھینک رہی ہے''۔

شامی فوج کی جانب سے شہری آبادی کے خلاف کلسٹر بم استعمال کرنے کی ابتدائی اطلاع حزب اختلاف کے کارکنان نے آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے ذریعے دی تھی اور اب ایچ آر ڈبلیو کے تحقیقات کاروں نے شامی شہریوں کے انٹرویوز کر کے اس کی تصدیق کی ہے۔ تنظیم کو شام کے دو قصبوں سے تعلق رکھنے والے مکینوں نے کلسٹر بم گرائے جانے کے بارے میں بتایا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ کلسٹر بموں سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اس کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔ کلسٹر بم روسی ساختہ ہیں لیکن فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ شام تک یہ کیسے پہنچے ہیں یا اس نے کہاں سے حاصل کیے ہیں؟

شمال مغربی شہر معرۃ النعمان کے نزدیک واقع قصبوں تفتانز اور تمناعی کے مکینوں نے ہیومن رائٹس واچ کے انٹرویورز کو بتایا کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے گذشتہ منگل کو ان کے قصبوں اور ان کے نواحی علاقوں میں کلسٹر بم گرائے تھے اور دو اسکولوں کے درمیان واقع جگہ میں کلسٹر بم گرنے کے بعد وہ کئی چھوٹے چھوٹے بموں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ تاہم ان میں سے بعض چھوٹے بم پھٹ نہیں سکے تھے۔

مسٹر گوز کا کہنا تھا کہ پھٹنے نہ والے چھوٹے بم شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور فضا میں پھٹنے والے کلسٹر بم بیسیوں چھوٹے چھوٹے بموں میں تقسیم ہو کر ایک وسیع علاقے میں پھیل سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بیشتر ممالک نے 2010ء میں قانون بن جانے والے ایک بین الاقوامی کنونشن کے تحت کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی عاید کر رکھی ہے لیکن شام نے ابھی تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ شامی حکومت کے کسی عہدے دار نے فوری طور پر ایچ آر ڈبلیو کی اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔