.

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، سلفی جماعت کا رہ نما جاں بحق

مقتول اسرائیل کو مطلوب افراد میں شامل تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی شہر غزہ میں اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں سخت گیر سلفی مسلک کی تنظیم جماعت التوحید والجہاد کے مرکزی کمانڈر ھشام السعیدنی اپنے ایک ساتھی سمیت جام شہادت نوش کر گئے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سلفی تنظیم کے رہ نما کو غزہ کے شمال میں جبالیا کے مقام پر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ موٹر سائیکل پر اپنے ایک دوسرے ساتھی کے ہمراہ جا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق جماعت التوحید کے کمانڈر ھشام السعیدنی المعروف ابو ولید المقدسی کو زخمی حالت میں غزہ کے الشفاء اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں کی تمام تر کوشش کے باوجود ان کے جسم سے بہنے والے خون بند نہیں کیا جا سکا۔ میزائل قریب پھٹنے کے باعث وہ بری طرح زخمی ہوئے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت چہرے سے کی گئی ہے۔ اسپتال میں دو گھنٹے کے بعد ڈاکٹروں نے سلفی رہ نما کی موت کی تصدیق کر دی تھی۔

غزہ کے ایک مقامی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 43 سالہ ھشام علی السعیدنی فلسطین کے ساتھ اردنی شہریت کا بھی حامل تھا۔ مقتول رہ نما کا نام اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے ہاں مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

خیال رہے کہ جماعت التوحید والجہاد کے مقتول کمانڈر ھشام علی لسعیدنی کو تنظیم کا اس وقت سربراہ مقرر کیا گیا تھا جب سنہ 2009ء میں حماس حکومت کے زیر انتظام سیکیورٹی اہلکاروں اور تنظیم کے درمیان رفح کے مقام پر ہونے والی لڑائی میں تنظیم کے بانی عبدالطیف موسیٰ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ السعیدنی نے بیت المقدس کے آس پاس سلفی جہادیوں پر مشتمل مجاہدین مجلس شوریٰ کے نام سے بھی ایک گروپ بنایا تھا۔