.

حزب اللہ وفادار کی اسد مخالف شخصیت کو آن ائیر قتل کی دھمکی

نصراللہ کے قذافی کی طرح پکڑے جانے کی بات پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے حامی ایک لکھاری تنظیم کے سربراہ سے کس حد تک محبت کرتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ان صاحب کے نزدیک یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ شیخ حسن نصراللہ کو لیبیا کے مقتول لیڈر معمر قذافی کی طرح کسی خفیہ کمین گاہ سے پکڑا جا سکتا ہے۔ عملی طور پر ان کا پکڑا جانا تو بہت دور کی بات ہے۔

العربیہ کے روزانہ نشر ہونے والے سیاسی شو ''پینوراما'' میں شامی قومی کانفرنس برائے تبدیلی کے چئیرمین عمارالقربی نے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شامی صدر بشار الاسد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ الاّ یہ کہ وہ قذافی کی طرح سیوریج کے پائپ میں پائے جائیں اور انھیں اور حسن نصراللہ کو ایسی کسی صورت حال میں گرفتار کر لیا جائے''۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ اس سے پروگرام میں شریک دوسرے مہمان، لبنانی لکھاری غسان جواد مشتعل ہو گئے اور انھوں نے براہ راست نشر ہونے والے اس شو میں ہی عمار القربی کو موت کی دھمکی دے دی۔ غسان جواد شامی حکومت کے علاوہ حزب اللہ اور اس کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کے زبردست حامی اور مؤید ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''اور تم ،جو یہ کہہ رہے کہ تم سید حسن نصراللہ کو ''سیور'' میں پاؤ گے۔ تمھیں تو تمھاری اس بات پر ہی قتل کیا جا سکتا ہے۔ کیا تم یہ سن رہے ہو''۔

اس پر پروگرام کی پیش کار منتہیٰ الرمحی نے اس دھمکی کو دُہرایا اور کہا کہ ''ڈاکٹر عمار قربی، یہاں یہ صاحب آپ کو براہ راست قتل کی دھمکی دے رہے ہیں اور یہ دھمکی ریکارڈ ہو چکی ہے''۔

پھر میزبان نے غسان جواد سے ان کی دھمکی کی بابت دوبارہ بات کی اور اس کی وضاحت چاہی تو انھوں نے اپنی دھمکی کو دُہرایا اور کہا کہ جو شخص مزاحمت کے ماسٹر سے متعلق اس طرح کی باتیں کر رہا ہے تو اسے کوئی حق حاصل نہیں''۔

اس کے بعد ان کی آواز دھیمی پڑ گئی اور یہ پتا نہیں چل سکا کہ انھوں نے''حق نہیں'' کے بعد کیا لفظ بولا تھا۔ پھر میزبان نے کہا کہ عمار القربی کو لبنانی لکھاری کے خلاف موت کی دھمکی دینے پر قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔

اس پروگرام میں شام میں غیر ملکی امن فوج کی تعیناتی سے متعلق گفتگو کی جا رہی تھی۔ اس سے متعلق ایک رپورٹ دو روز پہلے برطانوی اخبار میں شائع ہوئی تھی، لیکن اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضر الابراہیمی کے ترجمان نے شام میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی سے متعلق اس رپورٹ کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

الاخضر الابراہیمی کے ترجمان احمد فوزی نے نیویارک میں العربیہ کے نمائندے طلال الحاج کے نام بھیجی گئی ایک ای میل میں لکھا ہے:''جیسا کہ آپ جانتے ہیں ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ ایل بی (الاخضر الابراہیمی) شام میں تین ہزار امن فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق منصوبہ تیار کر رہے ہیں اور یورپی یونین کے دستوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا لیکن یہ رپورٹ بالکل جعلی ہے''۔