.

اردن میں 23 جنوری کو نئے پارلیمانی انتخابات ہوں گے

22 دسمبر سے کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے الیکشن کمیشن نے آیندہ سال تئیس جنوری کو نئے پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

اردن کی پطرا نیوز ایجنسی کے مطابق آزاد الیکشن کمیشن نے صدارتی فرمان کی روشنی میں منگل کو آیندہ انتخابات کے لیے پولنگ کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے بائیس دسمبرسے کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے اور یہ سلسلہ تین روز تک جاری رہے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند سرکاری ملازمین بائیس اکتوبر تک مستعفی ہو جائیں''۔ الیکشن کمیشن نے گذشتہ روز اطلاع دی تھی کہ پارلیمانی انتخابات کے لیے بیس لاکھ سے زیادہ ووٹروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرا لیا ہے۔

کمیشن کے مطابق اردن کی آبادی قریباً سڑسٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس میں سے اکتیس لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

اردن کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت اخوان المسلمون نے نئی حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اخوان کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں شاہ کے وفادار دیہی علاقوں کی نمائندگی میں اضافہ کردیا گیا ہے اور یہ اقدام شہری علاقوں کی قیمت پر کیا گیا ہے جہاں اسلام پسندوں کو بالا دستی حاصل ہے۔

اردن کی اخوان المسلمون نے ملک میں پارلیمانی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت وزیر اعظم کو منتخب کیا جائے اور وہ شاہ کے نامزد نہ ہوں۔ یاد رہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ ہفتے وزیر اعظم عبداللہ نصر کی قیادت میں نئی حکومت سے حلف لیا تھا۔یہ حکومت پارلیمانی انتخابات کے انتخابات کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے گی۔

شاہِ اردن نے اکتوبر کے اوائل میں قبائلی سرداروں کی بالادستی والی پارلیمان کو اس کی آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی تحلیل کردیا تھا اور ملک میں وسط مدتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔