.

ایشین ڈرائیور نے معمر سعودی کفیل کو قتل اور مالکن کو زخمی کر دیا

قتل کے بعد ملزم کا اقدام خودکشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایشیاء اور افریقا کے بے روزگار افراد سعودی عرب کو ہمیشہ ایک امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد مملکت میں گھریلو خادماؤں کے طور پر ملازمت کرتے ہیں، تاہم حالیہ کچھ عرصے سے گھریلو ملازمین کے ہاتھوں مالکان پر حملوں کی ایک خطرناک وباء پھوٹ پڑی ہے، جس نے سعودی شہریوں کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی سعودی عرب کے ایک پوش علاقے الخبر میں پولیس نے ایک ایشین ڈرائیور کو گرفتار ہے۔ ڈرائیور پر الزام ہے کہ اس نے اپنے عمر رسیدہ کفیل کو تیز دھار آلے کے پے درپے وار کر کے قتل اور اس کی اہلیہ کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ دونوں میاں بیوی کی عمریں ستر سال سے زائد بتائی جاتی ہیں۔



پولیس حکام کے مطابق انہوں نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے تاہم گرفتاری سے قبل اس نے مالک کے گھر میں گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم بر وقت مداخلت پر اسے بچا لیا لیا گیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم گرفتاری کے وقت نشے کی حالت میں تھا اور اس نے بہت زیادہ شراب پی رکھی تھی۔



ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قتل کی یہ گھناؤنی وارادت نشے ہی کی حالت میں کی گئی ہے۔ ملزم نے اپنے کفیل سے پاسپورٹ مانگا تھا۔ اس نے حج اور عید الاضحی کے بعد اس کا پاسپورٹ اسے دینے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن ملزم نے اسے اس کے باوجود قتل کر دیا۔



پولیس کے ترجمان انسپکٹر زیاد الرقیطی نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں الخبر سے کسی نے فون پر قتل کے واقعے کی اطلاع دی۔ ہم نے موقع واردات کےقریب گشت پر موجود پولیس کو جائے وقوعہ پر پہنچے کی ہدایت کی۔ پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا تو صحن میں مقتول کی میت پڑی تھی جس سے خون جاری تھا۔ گھر کے ایک کمرے میں معمر زخمی خاتون تھی اور دوسرے میں ملزم نے خود کو پھندا ڈال رکھا تھا۔ تاہم پولیس نے ملزم کو زندہ گرفتار کر لیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔



خیال رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ کچھ عرصے سے گھریلو ملازمین کے ہاتھوں مالکان پر حملوں کے کئی ہولناک واقعات رونما ہو چکےہیں۔ ایک ماہ قبل دو خاتون ملازماؤں نے اپنے مالکان کی کم سن بچیوں کو نہایت بے دردی سے ذبح کر دیا تھا۔