.

حلب میں دندان اور موئے مبارک کی امین جامع الاموی میں شدید لڑائی

فریقین کے ایک دوسرے پر تاریخی اشیاء چوری کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے تاریخی شہر حلب میں واقع جامع الاموی کی کیا اسٹرٹیجک اہمیت ہو سکتی ہے، جس کے باعث سرکاری فوج و مسلح اپوزیشن اس کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے تین دنوں سے لڑائی میں مصروف ہیں؟

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گزشتہ دو دنوں سے یہ سوال مسلسل پوچھا جا رہا ہے؟ سوال کرنے والے اس بات پر بھی حیران ہیں کہ کسی مقام کی اسٹرٹیجک اہمیت کی وجہ سے صرف فریقین لڑنے مرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

یاد رہے کہ جامع الاموی حلب کی سب سے بڑی اور تاریخی مسجد ہے جہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان اور موئے مبارک تبرک کے طور پر شیشے کے ہوا بند صندوق میں رکھے گئے تھے۔ سرکاری فوج یہاں موجود مقدسات کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی تھی، لیکن حالیہ لڑائی میں ان مقدسات کو شیشے کا صندوق توڑ کر مسجد سے چوری کر لیا گیا۔

حلب کی جامع الاموی 8000 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔ یہ شہر کی وسطی کالونی سویقہ حاتم میں سرکاری فوج اوراپوزیشن کے ٹھکانوں کے عین درمیان واقع ہے۔ فریقین میں جو بھی اس جگہ کا کنٹرول حاصل کر کے اسے اپنا ٹھکانا بنانے کی کوشش کرے گا وہ دراصل خود کو دونوں اطراف سے ہونے والی گولیوں کی بارش کا آسان ہدف پائے گا۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس جگہ کا کنڑول اسٹرٹیجک حوالے سے نہیں بلکہ کسی ایک فریق کی معنوی کامیابی تصور ہو گا۔

اسد مخالف انقلابیوں کے ساتھی 'ابو ماہر' نے جامع الاموی پر اپنے قبضے سے دو دن پہلے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا ہمارے ساتھی مسجد کا کنڑول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس 'قلعے' میں موجود بشارالاسد کے فوجی ہمارے ٹھکانے کو تلاش کر لیتے ہیں۔ بہ قول ابو ماہر مسجد پر کنڑول کا مقصد اس پر قبضہ نہیں بلکہ فریق مخالف کو یہ جگہ پل کے طور پر استعمال کرنے سے روکنا ہے۔

جامع الاموی حلب کا نام یونیسکو کی بین الاقوامی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل ہے۔ اسے اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے تیرہ سو سال قبل تعمیر کرایا۔ وہ اسے دمشق میں اپنے بھائی الولید کی تعمیر کردہ جامع الاموی کی عکس بنانا چاہتے تھے۔ العربیہ نیٹ کے زیر مطالعہ مختلف تاریخی کتب سے مترشح ہوتا ہے کہ اہالیاں حلب اسے 'جامع زکریا' کے نام سے موسوم کرتے تھے کیونکہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس میں حضرت زکریا کے جسد خاکی کے بعض اعضاء یہاں مدفون ہیں۔

شامی صدر نے مسجد سے تبرکات کی چوری کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنانے میں اتنی جلدی کا مظاہرہ نہیں کیا جتنی سرعت سے انہوں نے حلب کے گورنر محمد وحید عقاد کی نگرانی میں اس تاریخی ورثے کی مرمت کے لئے نگران کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔