.

شامی فوج کی شہری علاقوں میں کلسٹر بم برسانے کی تردید

امریکا کی پڑوسی ممالک کو فضائی نگرانی کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام نے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے صدر بشار الاسد کی فوج پر شہری علاقوں میں کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

شامی عرب نیوز ایجنسی (سانا) کی رپورٹ کے مطابق شامی فوج کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس کے پاس کلسٹر بم نہیں ہیں۔ نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے دو روز پہلے صدر بشار الاسد کی وفادار فوج پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے صوبہ حمص، حلب، للذاقیہ اور دمشق کے علاوہ معرۃ النعمان، تمناعی، تفتانز اور التاہ کے قصبوں میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران کلسٹر بم استعمال کیے ہیں۔



ادھر امریکا نے شام کے تمام پڑوسی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کی کڑی نگرانی کریں۔ امریکی وزیر خارجہ وکٹوریا نولینڈ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم ترکی کی جانب سے شام کے طیارے کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اتارے جانے کا خیر مقدم کرتے ہیں''۔

امریکی ترجمان نے کہا کہ ''شام کے تمام پڑوسی ممالک اپنی فضائی حدود کے حوالے سے چوکس رہیں اور دیکھیں کہ وہ کسے استعمال کی جا رہی ہیں کیونکہ اب ہمارے پاس ایک ٹھوس مثال سامنے آ چکی ہے''۔

ترکی نے دس اکتوبر کو ماسکو سے دمشق جانے والے شام کے مسافر بردار طیارے کو اس میں اسلحے کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات پر زبردستی انقرہ کے ہوائی اڈے پر اتار لیا تھا۔ اس طیارے کو نو گھنٹے تک انقرہ کے ہوائی اڈے ہر روکے رکھا گیا تھا اور پھر اس کو اس کی تلاشی لینے اوراس میں موجود ممنوعہ سامان کو ضبط کرنے کے بعد منزل مقصود دمشق کی جانب جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

درایں اثناء شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے عید الاضحیٰ سے قبل تمام شامی فریقوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے یہ مطالبہ بغداد میں عراقی قیادت سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے ایرانی حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شام میں جنگ بندی کے لیے تعاون کریں۔

انھوں نے شامی قومی کونسل کے ایک عہدے دار احمد رمضان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انھوں نے شام میں بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی کا کوئی مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''آپ نے یہ پڑھا ہو گا کہ میں نے امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بات کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی''۔

الاخضر الابراہیمی کے ترجمان احمد فوزی نے بھی گذشتہ روز ایک بیان میں شام میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی سے متعلق رپورٹ کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یونیفل کے لیے جن ممالک نے اپنے دستے بھیجے ہیں، الاخضر الابراہیمی نے ہر گز بھی ان سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔