.

مصر کے سابق اسپیکر سے بدعنوانی کی تحقیقات

فتحی سرور کے اثاثہ ضبطی کا بھی حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی پیپلز اسمبلی کے سابق اسپیکر احمد فتحی سرور کو بدعنوانی کے الزام میں عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر پندرہ دن کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ وزارت انصاف و انسداد بدعنوانی کے سیکرٹری ایڈووکیٹ یحییٰ جلال نے فتحی سرور کے تمام اثاثے بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق معزول صدر حسنی مبارک کے قریبی ساتھی فتحی سرور کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت مصر کے احتساب بیورو میں کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت کے بعد عدالت نے فتحی سرور کے تمام اثاثوں کی ضبطی اور انہیں دو ہفتوں کے لیے پولیس ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات دیے۔

خیال رہے کہ فتحی سرور پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے سے غیر قانونی طور پر 'مال بنایا تھا'۔ تاہم فتحی سرور ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔



عدالت نے عوامی انقلاب کے دوران اونٹوں کے ذریعے مظاہرین مظاہرین پر چڑھائی کے مقدمے سے بری ہونے والے ایک دوسری کاروباری شخصیت ابراہیم کامل ابو العینین کے مقدمہ کی بھی سماعت کی۔ ان پر بھی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ قبل ازیں اسی عدالت نے ابراہیم کامل کو اپنی جائیداد میں تصرف اور بیرون ملک سفر سے روک دیا تھا۔



خیال رہے کہ سابق اسپیکر اسمبلی احمد فتحی سرور اور معروف تاجر ابراہیم کامل ابو العینین کو حال ہی میں قاہرہ کی ایک عدالت سے اونٹوں کے ذریعے مظاہرین پر چڑھانے میں ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔ ان کی بریت کےخلاف پورے ملک میں عدالت کے خلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے قاہرہ میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی، جسکے نتیجے میں ایک سو کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔



اونٹوں کے ذریعے مظاہرین پر چڑھائی کا واقعہ دو اور تین فروری 2011ء کو قاہرہ میں اس وقت پیش آیا تھا کہ جب پولیس اہلکاروں اور حسنی مبارک کے حامیوں نے اونٹوں پر سوار ہو کر مظاہرین پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں 19 مظاہرین اونٹوں تلے کچل کر جاں بحق ہو گئے تھے۔