.

سعودی عرب نماز عشاء تاخیر سے ادا کرنے کی سفارش مسترد

تجویز مغرب، عشاء کے درمیان وقت کی تنگی کے باعث پیش کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی مجلس شوریٰ نے نماز عشاء کی تاخیر کے لیے فتوے کی سفارش مسترد کر دی ہے۔

یہ تجویز رکن شوریٰ فہد الغنزی کی جانب سے ہفتہ وار اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔ فہد الغنزی نے مجلس شوریٰ کو پیش کردہ اپنی تجویز میں اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا کہ مغرب اور عشاء کی نمازوں کے درمیان بہت ہی کم وقت رہ جاتا ہے حس کے باعث لوگوں کو اپنے ضروری کام نمٹانے اور نماز کی ادائی میں مشکل پیش آتی ہے۔ لہٰذا شوریٰ نماز عشاء کو موخر کرنے کا فتویٰ جاری کرے۔

ذرائع ابلاغ میں مجلس شوریٰ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نماز عشاء میں تاخیر کے فیصلے سے مریضوں اور معمر افراد کے باجماعت نماز کی ادائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کی جماعت کی نماز کے فوت ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ نیز اس تجویز پر عمل سے سعودی عرب میں بازار رات گئے تک کھلے رکھنے کا جواز پیدا ہو جائے گا، جو مناسب نہیں۔ نماز عشاء کو نصف شب یا اس اسے آگے نہیں لایا جا سکتا۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے استفسار پر ڈاکٹر الغنزی نے بتایا کہ نماز عشاء مؤخر کرنے کے لیے ان کی تجویز کی حمایت 66 دیگر ارکان نے بھی کی لیکن اکثریت نے اسے مسترد کر دیا۔ تجویز کی مخالفت کرنے والوں کے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ ایسا کرنے سے معمر اور مریضوں کی جماعت کے ساتھ نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ میری تجویز مفاد عامہ کے لیے تھی۔