.

محصورین غزہ کو کم خوراکی سے بچنے کے لیے 2279 کبلوریز درکار

غزہ کی معیشت تباہ کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کی ناکہ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل میں سپریم کورٹ کے حکم پر ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق غزہ میں محصور فلسطینیوں کو کم خوراکی کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے انھیں روزانہ 2279 کبلوریز فی کس درکار ہیں۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم گیشا نے اس رپورٹ کے اجراء کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور اسی تنظیم نے اس رپورٹ کو شائع کیا ہے۔ اس کے بعد وزارت دفاع کے ایک عہدے دار گائے انبار نے کہا کہ ''یہ رپورٹ ایک تحقیقی مطالعے کا حصہ تھی لیکن ہم نے اس کو کبھی استعمال نہیں کیا''۔

یہ دستاویز جنوری 2008ء میں سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی۔اسرائیل نے2007ء میں حماس کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے بعد محاصرے کو سخت کردیا تھا۔اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تنقید کے بعد اسرائیل نے ایک جائزہ رپورٹ مرتب کرائی تھی جس میں اس بات کا تعین کیا گیا تھا کہ محصورین غزہ کو زندہ رکھنے اور کم خوراکی کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے روزانہ کتنی کیلوریز خوراک درکار ہوں گی۔

اس مطالعے کا نام''غزہ کی پٹی میں خوراک کی کھپت ۔۔۔۔۔ سرخ لکیر'' ہے اور اس میں یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں ہر فرد کو 2279 کبلوریز درکار ہوں گی۔ ان کیلوریز کا تعین اسرائیل کی وزارت صحت کے وضع کردہ فارمولے کے تحت کیا گیا تھا۔

دوسری جانب برطانیہ کی قومی صحت سروس کے مطابق ایک عام مرد کو اپنا وزن برقرار رکھنے کے لیے ڈھائی ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ عورت کو دو ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔



مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں انسانی زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے خوراک اور دوسری روزمرہ اشیاء سے لدے ایک سو چھے ٹرکوں کو روزانہ فلسطینی علاقے میں جانے کی اجازت دے۔گیشا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے محاصرے سے قبل قریباً چار سو ٹرک روزانہ غزہ کی پٹی پہنچائے جاتے تھے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل نے بنیادی اشیاء اور تعمیراتی سامان سے لدے نو سو پینتیس ٹرکوں کو فلسطینی علاقے میں جانے کی اجازت دی تھی۔واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کی کل آبادی سولہ لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے اور یہ علاقہ اسرائیل کی بری، بحری اور فضائی ناکہ بندی کی وجہ سے دنیا کی ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انھیں ناکردہ گناہوں کی اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔

وکی لیکس نے کچھ رصہ قبل ایک سفارتی مراسلت کو شائع کیا تھا جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے امریکی حکام کو 2008ء میں بتایا تھا کہ ''وہ غزہ کی معیشت کو تباہی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ وہاں انسانی بحران کو بھی روکنے کی کوشش کریں گے''۔

واضح رہے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی پچاس غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور اقوام متحدہ نے چند ماہ قبل اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔فلسطینیوں کو گوناگوں مسائل سے دوچار کرنے پر اسرائیلی حکومت کو عالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے لیکن وہ اس کے باوجود غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کو تیار نہیں۔