.

شامی بحران حل نہ ہوا تو سب کچھ بھسم ہو جائے گا الابراہیمی

عید پر ہلاکتیں بند نہ ہوئی تو صورت حال سنگین ہو جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے خبردار کیا ہےکہ مسئلے کا کوئی ٹھوس حل نہ نکالا گیا تو بحران صرف شام تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ جنگل کی آگ کی طرح ہر چیز بھسم کر دے گا۔ عالمی برادری شام میں قیام امن کے کوششیں تیز کرے یا پھر اس کی تباہی کا تماشا دیکھنے کے لیے تیار رہے۔



ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب، شام اور ایران کے دورے سے واپسی پر لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سابق صدور سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔



الابراہیمی نے بتایا کہ میں نے تینوں ممالک کی صف اول کی قیادت کو شامی بحران کی سنگینی سے آگاہ کیا اور خبردار کیا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قتل عام کا سلسلہ ہر صورت میں بند ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے وہ شامی اپوزیشن اور حکومت کو یہ تجویز پیش کر چکے ہیں۔ یو این مندوب نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا موقف دہرایا کہ عیدالاضحیٰ پر لاشیں گرانے کا سلسلہ جاری رہا تو شام کا بحران سنگین تر ہو سکتا ہے۔ عید ہم سب کے لیے شام میں فائر بندی کا ایک سنہری موقع ہے۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔



ایک سوال کے جواب میں الاحضر ابراہیمی نے کہا کہ میں نے لبنانی حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں لبنان کے سابق صدور نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ شام کا بحران تیزی سے لبنان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمیں مل کر شام سے نکلنے والی آگ کو بجھانا پڑے گا۔



عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے مجوزہ فائر بندی کے فارمولے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے الاخضر الابراہیمی کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر فائر بندی شامی عوام کو جنگ کی مصیبت سے نکال سکتی ہے۔ ممکن ہے عید کے ایام میں قتل عام کم سے کم ہونے کی صورت میں شام کو تباہی کے دھانے پر پہنچنے سے بچایا جا سکے۔



انہوں نے کہا کہ فی الحال تو میں اپنی فائر بندی کی تجویز کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس تجویز کے بعد ہم شام کی اندرون ملک اور بیرون ملک قیادت سے بات چیت کی پوزیشن میں آسکیں گے۔

ابراہیمی کوئی نیا رنگ نہ دکھا سکے

ماہرین اور سیاسی دانشور شام کے بحران کے حل کے لیے کوشاں الاخضر الابراہیمی کی مساعی سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ عرب صحافی اور شامی امور کے ماہر راجح خوری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو این‘‘ مندوب کی امن مساعی میں خلوص کی تو کئی کمی نہیں لیکن وہ کوئی نیا کارنامہ نہیں دکھا سکے ہیں۔ ان کی کوششیں بھی اسی آہنگ پرہیں جس پران کے پیشرو کوفی عنان چلتے رہے ہیں۔

راجح خوری کا کہنا تھا کہ شام کا بحران اب صرف ملک کے اندر محدود نہیں رہا بلکہ اس کے منفی اثرات پڑوسی ممالک لبنان، اردن اور ترکی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ الاخضر الابراہیمی شام کے بحران کے حوالے سے ایران اور عراق کی تجاویز کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ جب بھی شام کے بحران کے حل کی بات کرتے ہیں تو 'مائنس ون' (یعنی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے) کی تجویز کو گول کر جاتے ہیں حالانکہ ابراہیمی بخوبی یہ بات جانتے ہیں کہ شام کے مسئلے کا واحد حل بشار الاسد کا اقتدار سے ہٹایا جا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی امن مندوب الاخضر ابراہیمی شام میں قیام امن کے لیے مسلسل تگ و دو کر رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ چند دنوں میں مصر، ترکی، سعودی عرب، ایران، شام اور لبنانی کی قیادت کے علاوہ خلیجی ممالک کے رہ نماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے فوری طو پر عیدالاضحیٰ کے موقع پر شام میں متحارب فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ بادی النظر میں فریقین بھی اس پر راضی دکھائی دیتے ہیں لیکن عملاً ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ایران نے بھی ایام عید میں فائر بندی کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔