شامی بحران حل نہ ہوا تو سب کچھ بھسم ہو جائے گا الابراہیمی

عید پر ہلاکتیں بند نہ ہوئی تو صورت حال سنگین ہو جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ماہرین اور سیاسی دانشور شام کے بحران کے حل کے لیے کوشاں الاخضر الابراہیمی کی مساعی سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ عرب صحافی اور شامی امور کے ماہر راجح خوری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو این‘‘ مندوب کی امن مساعی میں خلوص کی تو کئی کمی نہیں لیکن وہ کوئی نیا کارنامہ نہیں دکھا سکے ہیں۔ ان کی کوششیں بھی اسی آہنگ پرہیں جس پران کے پیشرو کوفی عنان چلتے رہے ہیں۔

راجح خوری کا کہنا تھا کہ شام کا بحران اب صرف ملک کے اندر محدود نہیں رہا بلکہ اس کے منفی اثرات پڑوسی ممالک لبنان، اردن اور ترکی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ الاخضر الابراہیمی شام کے بحران کے حوالے سے ایران اور عراق کی تجاویز کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ جب بھی شام کے بحران کے حل کی بات کرتے ہیں تو 'مائنس ون' (یعنی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے) کی تجویز کو گول کر جاتے ہیں حالانکہ ابراہیمی بخوبی یہ بات جانتے ہیں کہ شام کے مسئلے کا واحد حل بشار الاسد کا اقتدار سے ہٹایا جا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی امن مندوب الاخضر ابراہیمی شام میں قیام امن کے لیے مسلسل تگ و دو کر رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ چند دنوں میں مصر، ترکی، سعودی عرب، ایران، شام اور لبنانی کی قیادت کے علاوہ خلیجی ممالک کے رہ نماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے فوری طو پر عیدالاضحیٰ کے موقع پر شام میں متحارب فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ بادی النظر میں فریقین بھی اس پر راضی دکھائی دیتے ہیں لیکن عملاً ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ایران نے بھی ایام عید میں فائر بندی کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں