.

مصر اسکارف نہ لینے پر معلمہ نے دو طالبات کے بال کاٹ ڈالے

استانی کے خلاف محکمانہ کارروائی، ملازمت سے فراغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں ایک خاتون اسکول ٹیچر نے حجاب پہننے سے انکاری دو طالبات کے سر کے بال کاٹ ڈالے۔ اس اقدام کے باعث معلمہ ایمان احمد الگیلانی کو نہ صرف سماجی حلقوں میں سخت تنقید کا سامنا ہے بلکہ وزارت تعلیم نے بھی اس کے خلاف سخت اقدام اٹھایا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سیکرٹری تعلیم زکریا ساسی نے الاقصر کے ایجوکیشن افسر ڈاکٹر عزت سعد کو ہدایت کی ہے کہ وہ بچیوں کے سر کے بال کاٹنے والی اسکول ٹیچر ایمان احمد الکیلانی کی ایک ماہ کی تنخواہ کی کٹوتی کریں اور انہیں فی الفور نوکری سے نکالا جائے۔



رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ضلع الاقصر میں پیش آیا جہاں مقامی سکول کی چھٹی جماعت میں زیر تعلیم دو طالبات علاء منصور قاسم اور منا بربش الراوی نے خاتون ٹیچر کی ہدایت کے مطابق حجاب نہ اوڑھا تو ٹیچر نے ان طالبات کے سات سینٹی میٹر لمبے بال قینچی نکال کر کاٹ ڈالے۔ اس واقعے پر نو عمر طالبات سخت صدمے سے دوچار تھیں۔ وہ روتی ہوئی گھر لوٹیں۔ بچیوں کے بال کاٹنے والی معلمہ کے خلاف پہلے اسکول کی انتظامیہ نے کارروائی کی۔ بعد ازاں یہ واقعہ مجسٹریٹ عدالت میں اٹھایا گیا ہے، جہاں اس کی تحقیقات جاری ہیں۔



خیال رہے کہ مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے رائج کردہ سیکولر نظام خاتمے کے بعد اخوان المسلمون کی مذہبی حکومت کے قیام کے علی الرغم خواتین کے حجاب کے معاملے میں سختی نہیں برتی گئی۔ تاہم بعض سرکاری اداروں سے وابستہ خواتین نے رضاکارانہ طور پر حجاب اور اسکارف کا اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکول کی استانی کی جانب سے اسکارف پہننے پر سزا کے طور پر طالبات کے بال کاٹنے کا یہ انوکھا واقعہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔