.

بشار الاسد کے خلاف تحریک بغاوت میں 03 ہزار سے زائد بچوں کی جانوں کا نذرانہ

کم سن بچوں پر سرکاری فوج کے روح فرسا مظالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشار الاسد کے خلاف انیس مہینوں سے جاری خونی عوامی بغاوت میں اسد نواز فوج اور شبیحہ کے مظالم کا شکار نہ صرف بڑی عمر کے افراد رہے ہیں بلکہ عوامی انقلاب کی تحریک کی آبیاری میں ہزاروں کم سن بچوں کا خون بھی شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 19 ماہ کے دوران اسدی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 3176 کم سن بچوں کو نہایت بے دردی اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل کیا جا چکا ہے۔

کم عمر افراد کی ہلاکتیں نہ صرف جنگی جہازوں سے آبادی پر کی گئی بمباری سے ہوئی ہیں، بلکہ بشار الاسد کی حمایت اور باغیوں کے انتقام میں دیوانی سرکاری فوج نہتے نونہالوں پر براہ راست اور قریب سے گولیاں چلا کر انہیں شہید کرتی رہی ہے۔ گھروں میں داخل ہونے اور بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو ذبح کرنے کے دسیوں روح فرسا واقعات ریکارڈ پر آ چکے ہیں۔

انہی واقعات میں حمزہ الخطیب کے بہیمانہ قتل نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اسدی فوج نے چندہ ماہ پیشتر حمزہ کو حراست میں لیا اور اسے دوران حراست اذیتیں دے کر شہید کیا گیا۔ ننھے مقتول کی نعش جب ورثاء کے حوالے کی گئی تو وہ تشدد کے باعث ناقابل شناخت تھی اور اس کے جسم کے نازک اعضاء بھی کاٹے جا چکے تھے۔

بچوں کے اجتماعی قتل عام میں مشہور اسدی گماشتوں کے ہاتھوں ان ننھے پھولوں کے مسلنے کے درجنوں واقعات سامنے آئے جہاں بچوں کا اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ چھبیس مئی کا حمص میں حولہ کے مقام پر سرکاری فوج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کو شائد شامی شہری کبھی نہ بھلا سکیں۔ دہشت گردی کی اس گھناؤنی کارروائی میں مارے جانے والے 106 افراد میں سے 50 کم سن بچے اور بچیاں تھیں۔ یہ انہی دنوں کا واقعہ ہے جب نارویجن امن مندوب رابرٹ موڈ کی قیادت میں عالمی معائنہ کاروں کا ایک وفد حمص میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور فریقین میں فائر بندی کی مساعی میں مصروف تھا۔

جولائی 2012ء میں حماۃ کے علاقے التریمسہ میں اسی طرح کے ایک دوسرے ہولناک قتل عام میں 300 افراد کو سفاکانہ طریقے سے جان سے مار ڈالا۔ ملہوکین میں اکثریت بچوں کی تھی، تریمسہ کی سڑکیں، گلیاں اور کھیت بھی بے گناہوں کی لاشوں سے بھڑے پڑے تھے۔

اکتوبر کے اوائل میں برطانوی اخبار 'ڈیلی میل' نے حلب میں اسدی فوج کی گولہ باری سے شہید ایک بچی کی لرزہ خیز تصویر شائع کی، جس نے ثابت کر دیا کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں حملے کرنے والے انسانی ہمدردی کے جذبات سے مکمل عاری اور وحشی مخلوق ہیں۔

برطانوی اخبار نے شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ بھی شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ اسد نواز فوج کی بمباری میں جاں بحق حماۃ کی اس ننھی بچی کی لاش کئی روز سے سڑک پر پڑی ہے اور کسی کو اسے اٹھا کر دفنانے کی توفیق بھی نہیں ہو سکی۔ انسانی جانوں کی بے توقیری کی ایسی المناک مثال شائد تاریخ میں نہ ملے۔

بچوں کے قتل عام کا ایک تازہ واقعہ ادلب کے میں معرہ نعمان کے مقام پرپیش آیا جہاں چوالیس افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مارے جانے والوں میں یہاں بھی اکثریت بچوں پرمشتمل تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نہ صرف ملک کے اندر موجود بچے متاثر ہوئے بلکہ نقل مکانی کر کے دوسرے ملکوں میں پناہ گزین شامیوں کے بچوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ ترکی اور اردن میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کے باعث بچوں کی بہبود کے لیے کوئی خاص پروگرام شروع نہیں کیے جا سکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق 2011ء کے اوائل سے اب تک شام میں 20 ہزار بچے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ شام میں قیام امن کی مخدوش صورت حال کے باعث بچوں کا مستقبل بھی تاریک دکھائی دیتا ہے۔