.

بیروت زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا، متعدد افراد ہلاک اور زخمی

دھماکے شہر کے مصروف ترین علاقے میں ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مصروف اور حساس علاقے الاشرفیہ کالونی میں زوردار دھماکے ہوئے ہیں، جن میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دارلحومت میں یہ دھماکے جمعہ کے روز اس وقت ہوئے جب شہریوں کی بڑی تعداد اپنے دفاتر اور کاروباری سرگرمیوں میں مصرف تھی۔

دارالحکومت کا دھماکوں سے متاثرہ مقام کاورباری اور سرکاری دفاتر کے حوالے سے حساس ترین جگہ سمجھی جاتی ہے۔ جائے حادثی کے اردگرد بنک، تعلیمی ادارے، ریستوران، شاپنگ سینٹرز، مرکزی پوسٹ آفس اور محکمہ مواصلات کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ یہاں ہر وقت پیدل چلنے والوں اور کار سواروں کی وجہ سے ھجوم رہتا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ بارود سے بھری ایک کار کے ذریعہ کیا گیا۔ ریموٹ کنٹرول سے اڑائی گئی کار لبنانی تنظیم حزب الکتائب کے دفتر کے سامنے کھڑی کی گئی تھی، یہاں کچھ لوگوں کی رہائش گاہیں اور لبنانی بنک کا دفتر بھی موجود ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں کم سے کم تین افراد کی ہلاکت اور پندرہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ بیروت شہری دفاع اور ریڈکراس کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ خیال رہے دھماکوں کی جگہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پرلبنانی اراکین پارلیمان کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔ یوں سیکیورٹی کے اعتبار سے بھی یہ ایک حساس علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دھماکے کے کچھ ہی دیر کے بعد وزیر داخلہ مروان شربل جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے ہونے والے جانی ومالی نقصان کا معائنہ کیا۔ وزیر داخلہ نے فادی عقیقی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

دھماکے کے بعد لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری کی جماعت 'فیوچر موومنٹ' کے رکن اسمبلی مصطفیٰ علوش نے کہا کہ لبنان میں بدامنی بشار الاسد نواز عناصر کی کارستانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروت دھماکوں سے صرف بشار الاسد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، اس طرح کی کارروائیاں وہی لوگ کرتے ہیں جو شام میں انقلابی تحریک دبانے کی سازشوں میں بھی ملوث ہیں۔