.

مصری صدر کا اسرائیلی ہم منصب کے نام محبت بھرے جذبات سے لبریز مکتوب

القاب و آداب سفارتکاری یا سیاسی ضرورت؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عوامی جمہوریہ مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مُرسی کا اسرائیلی ہم منصب شمعون پیریز کے نام محبت بھرے جذبات سے لبریز ایک مکتوب منظر عام پر آیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی، سماجی اور ابلاغی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر مرسی کی جانب سے شمعون پیریز کو یہ مراسلہ تل ابیب میں قاہرہ کے نئے سفیر عاطف سالم کی تقرری کے موقع پر اس سال انیس جولائی کو لکھا گیا تھا۔ مکتوب کے نفس مضمون اور اس میں مصری صدر کی طرف سے اسرائیلی ہم منصب کے لیے محبت بھرے جذبات اور القاب وآداب نے سیاسی حلقوں کو چونکا دیا ہے۔ یہ مراسلہ سب سے پہلے اسرائیل کے انگریزی رونامہ 'دی ٹائم آف اسرائیل' نے شائع کیا، جسے مصر کے عربی اخبار 'بوابہ الاھرام' نے بھی نقل کیا ہے۔



مراسلے میں صدر محمد مرسی اسرائیلی ہم منصب کو ’’میرے پیارے اور عظیم دوست' جیسے القاب وآداب کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے نئے سفیر کی ماہرانہ سفارت کاری کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مکتوب میں اسرائیل سے ہمدری، محبت اور صہیونی ریاست کے لیے 'نیک تمناؤں' کا بھی برملا اظہار کیا۔



اسرائیلی اخبار میں شائع مراسلے میں صدر محمد مرسی، وزیر خارجہ ڈاکٹر کامل عمرو اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ اسرائیلی صدر کے نام اپنے مراسلے میں صدر محمد مرسی دونوں ملکوں کے درمیان امن ومحبت کے فروغ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں اس بات کا عہد کیا کہ اسراٗیل میں قاہرہ کے نئے سفیر عاطف سالم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور دوستی کو مزید مستحکم کریں گے، جس کے بعد وہ خط کا اختتام 'آپ کا مخلص دوست محمد مرسی' کے الفاظ سے کرتے ہیں۔

مکتوب کی اہمیت

صدر محمد مرسی کا 'لیک' ہونے والا مکتوب رواں سال 19 جولائی کو لکھا گیا تھا۔ سفارت کاری کے امور کے ماہرین نے خط کے الفاظ و اسلوب کو معمول کا حصہ قرار اس سے متعلق مبالغہ آرائی سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

مصر کے سابق معاون وزیر خارجہ ھانی خلاف نے اخبار 'الاھرام' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے خطوط عموماً ایوان صدر کے دفتر سے جاری کیے جاتے ہیں جن کا مضمون پہلے سے تیار شدہ ہوتا ہے۔ انتظامیہ یا صدر ان کے الفاظ میں رد و بدل نہیں کرتے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سفیر کی تقرری کے لیے اس کی سفارتی اسناد کے ساتھ صدر کے دستخط شدہ مکتوب کا ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر سفیر کے پاس دیگر تمام دستاویزات موجود بھی ہوں لیکن مکتوب پر صدر مملکت کے دستخط نہ ہوں تو سفیر کا تقرر روک دیا جاتا ہے۔ ھانی خلاف کا کہنا تھا کہ صدر نے ایسے مکتوب پر صرف دستخط کرنا ہوتے ہیں اور بسا اوقات صدر کے دستخطوں پر مبنی مہر ثبت کر کے وزارت خارجہ کی طرف سے ہی مراسلہ بھیج دیا جاتا ہے۔

مصر میں عوامی انقلاب نے ماضی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری اخوان المسملون کے اقتدار تک پہنچنے میں تو مدد کی لیکن جماعت کی ماضی اور حال کی پالیسیوں بالخصوص اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں بڑے پیمانے پر اب لے دے ہو رہی ہے۔ صدر محمد مرسی کی طرف سے اسرائیلی ہم منصب کے نام نیک تمناؤں کے اظہار پر مبنی تازہ خط پہلا واقعہ نہیں۔ چند ماہ قبل بھی مصری ذرائع ابلاغ نے صدر محمد مرسی اور شمعون پیریز کے درمیان خفیہ مراسلت کی خبروں کو کئی ہفتوں تک شہ سرخیوں کا موضوع بنائے رکھا تھا۔