مصری صدر کا اسرائیلی ہم منصب کے نام محبت بھرے جذبات سے لبریز مکتوب

القاب و آداب سفارتکاری یا سیاسی ضرورت؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدر محمد مرسی کا 'لیک' ہونے والا مکتوب رواں سال 19 جولائی کو لکھا گیا تھا۔ سفارت کاری کے امور کے ماہرین نے خط کے الفاظ و اسلوب کو معمول کا حصہ قرار اس سے متعلق مبالغہ آرائی سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

مصر کے سابق معاون وزیر خارجہ ھانی خلاف نے اخبار 'الاھرام' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے خطوط عموماً ایوان صدر کے دفتر سے جاری کیے جاتے ہیں جن کا مضمون پہلے سے تیار شدہ ہوتا ہے۔ انتظامیہ یا صدر ان کے الفاظ میں رد و بدل نہیں کرتے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سفیر کی تقرری کے لیے اس کی سفارتی اسناد کے ساتھ صدر کے دستخط شدہ مکتوب کا ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر سفیر کے پاس دیگر تمام دستاویزات موجود بھی ہوں لیکن مکتوب پر صدر مملکت کے دستخط نہ ہوں تو سفیر کا تقرر روک دیا جاتا ہے۔ ھانی خلاف کا کہنا تھا کہ صدر نے ایسے مکتوب پر صرف دستخط کرنا ہوتے ہیں اور بسا اوقات صدر کے دستخطوں پر مبنی مہر ثبت کر کے وزارت خارجہ کی طرف سے ہی مراسلہ بھیج دیا جاتا ہے۔

مصر میں عوامی انقلاب نے ماضی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری اخوان المسملون کے اقتدار تک پہنچنے میں تو مدد کی لیکن جماعت کی ماضی اور حال کی پالیسیوں بالخصوص اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں بڑے پیمانے پر اب لے دے ہو رہی ہے۔ صدر محمد مرسی کی طرف سے اسرائیلی ہم منصب کے نام نیک تمناؤں کے اظہار پر مبنی تازہ خط پہلا واقعہ نہیں۔ چند ماہ قبل بھی مصری ذرائع ابلاغ نے صدر محمد مرسی اور شمعون پیریز کے درمیان خفیہ مراسلت کی خبروں کو کئی ہفتوں تک شہ سرخیوں کا موضوع بنائے رکھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں