.

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں 800 مکانات کی تعمیر کی منظوری

عالمی برادری کی جانب سے مخالفت کے باوجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں آٹھ سو نئے مکانات کے ماسٹر پلان کی منظوری دی ہے۔ نئے رہائشی فلیٹس کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے کہ جب مقبوضہ عرب علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع پر اسرائیل پہلے ہی عالمی برداری کی سخت تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ اسرائیل، عالمی برادری کی تنقید کے علی الرغم مشرقی بیت المقدس کو یہودیانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔



برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کے مطابق وزارت تعمیرات عامہ ومنصوبہ بندی کمیٹی نے مشرقی بیت المقدس میں گیلو کالونی کے نشیبی علاقے میں 797 نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے تعمیراتی فرموں سے ٹینڈر طلب کیے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر سنہ 1967ء کی چھے روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ میں قبضہ کیا تھا، جس کے بعد تل ابیب نے یکطرفہ طور پر شہر کو اسرائیلی ریاست ضم کر لیا جس کے بعد یہاں جنگی بنیادوں پر یہودیوں کو لا کر بسایا جا رہا ہے تاکہ خطے کی عرب شناخت ختم کی جا سکے۔ عالمی سطح پر بیت المقدس کی حیثیت ہنوز متنازعہ ہے اور دنیا نے بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کیا ہے۔



اسرائیل میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مخالف یہودی تنظیم 'Peace Now' کے ایک مرکزی عہدیدار ہاگیٹ اوفران کا کہنا ہے کہ گیلو کالونی میں نئے مکانات کی تعمیر جلد شروع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔