.

بشار الاسد کو جان کے لالے پڑ گئے، حفاظت کے لیے پاسداران انقلاب کا سہارا

قتل کے خوف سے سیکیورٹی سکواڈ میں مسلسل تبادلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں عوامی انتفاضہ نے صدر بشار الاسد کو اپنی زندگی کے بارے میں سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ صدر کو اپنی فوج اور سیکیورٹی کے عملے پر اعتماد نہیں رہا اور قتل کے خوف سے انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈوز کو اپنی حفاظت پر مامور کر رکھا ہے۔



مغربی سفارتی ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ صدر اسد نے اپنی ذاتی سیکیورٹی کے لیے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا لیکن اب ان کے لیے علوی بھی زیادہ قابل اعتبار نہیں رہے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ سیکیورٹی پر مامور کوئی اہلکار ہی انہیں گولیاں مار کر قتل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پچھلے چند ماہ کے دوران اپنے سیکیورٹی سکواڈ میں روز مرہ کی بنیاد پرتبادلے کیےہیں۔ اب انہوں نے تبادلوں کے جھنجھٹ سے بھی جان چھڑاتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈوز کو اپنی سیکیورٹی پر مامور کیا ہے۔



ذرائع کاکہنا ہے کہ فوج میں پڑنے والی پھوٹ نےصدر کوسخت بے چین کر رکھا ہے۔ وہ نہ صرف حکومت کے ہاتھ سے جانے پر مشوش ہیں بلکہ انہیں اپنی زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ فوج میں پھوٹ انہیں اپنی موت دکھائی دیتی ہے۔



صدر اسد کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو روس میں جنگی تربیت بھی دی گئی ہے لیکن یہ تمام اہلکار صدر کے لیے ناقابل اعتبار ہیں۔ حال ہی میں دمشق میں ایران کے مندوب میجر جنرل حسین ھمدانی نے صدر بشار الاسد کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے پاسداران انقلاب کی خدمات حاصل کریں۔ خیال رہے کہ مسٹر ھمدانی ایران کے شام میں پاسداران انقلاب کے خصوصی مندوب ہیں۔ حسین ھمدانی ایران کے محمد رسول اللہ بریگیڈ کے کمانڈر رہ چکے ہیں لیکن سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔



یہاں یہ امر واضح رہے کہ جنرل حسین ھمدانی کے میڈیا میں بیان شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان بیانات میں وہ ایرانی سیکیورٹی فورسز اور پاسداران انقلاب کی شامی بحران میں ملوث ہونے کی تردید کرتے آئے ہیں۔ مغربی سفارت کاروں کے تازہ ذرائع نے جنرل ہمدانی کی غیرجانب داریت کے دعوے کا پول کھول دیا ہے۔



مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ میں ایرانی پاسداران انقلاب اور نیم سرکاری ملیشیا القدس فورسز کے اہلکاروں کی شام میں موجودگی کی خبریں تواتر کے ساتھ اتی رہی ہیں۔ گو کہ ایران اپنے سیکیورٹی اداروں کےاہلکاروں کی شام میں موجودگی کی نفی کرتا رہا ہے لیکن ایرانی عناصر کے شامی عوامی بغاوت کی تحریک کچلنے میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں۔