.

بیروت دھماکوں میں بریگیڈیئر وسام الحسن جاں بحق، شام قصور وار قرار

وسام اسد نواز عناصر کےخلاف سرگرم تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کی الاشرفیہ کالونی میں گزشتہ روز ہونے والے کار بم دھماکے میں داخلی سلامتی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل سے وابستہ بریگیڈیئر وسام الحسن سمیت کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور ایک سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب لبنان کی اپوزیشن جماعت فیوچر موومنٹ کے سربراہ سابق وزیر اعظم سعد حریری اور حکومت میں شامل سیاست دان ولید جنبلاط نے حملوں میں شام کو ملوث قرار دیا ہے۔



دھماکوں کے بعد العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سعد حریری نے کہا کہ چیف برائے اطلاعات بریگیڈیئر وسام الحسن لبنانی قوم کے لیے'سیفٹی والو' اور حفاظتی دیوار تھے انہیں بشار الاسد نے قتل کرایا ہے۔



لبنان کے ایک اور سیاست دان ولید جنبلاط نے بھی سعد حریری کے بیان کی تائید کی ہے۔ یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ جنبلاط کی جماعت متعدد وزارتوں سے بھی لطف اندوز ہو رہی ہے۔ العربیہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں مسٹر جنبلاط نے کہا کہ بشارا لاسد نے اپنے پٹھو میچل سماحہ کے خلاف قانونی کارروائی کا بدلہ لیا ہے کیونکہ سماحہ کی شام نواز سرگرمیوں کے خلاف تحقیقات میں بریگیڈیئر وسام پیش پیش رہے ہیں۔



ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی حوالے سے نہیں البتہ قومی پہلو سے آج لبنانی قوم 2005ء کے بعد آج ایک مرتبہ پھر متحد ہوئی ہے۔ سنہ دو ہزار پانچ میں ہم سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی ’شہادت‘ پر ایک تھے۔ اس کے بعد آج پھر ایک ہو چکے ہیں۔



لبنان کے ایک دوسرے سیاسی گروپ ’’مارچ14‘‘ نے وسام الحسن کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کی تمام ذمہ داری وزیر اعظم نجیب میقاتی پر عائد کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو دہشت گردی کی چتا میں جھونک دیا ہے۔ بریگیڈیئر وسام الحسن کا قتل رفیق حریری کے قتل کا تسلسل ہے۔



خیال رہے کہ جمعہ کے روز بیروت میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بریگیڈیئر وسام الحسن سابق مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے دست راست سمجھے جاتے رہے ہیں۔ شام میں صدر بشار الاسد کےخلاف عوامی بغاوت کی تحریک کے بعد سے اب تک انہوں نے لبنان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ گذشتہ کچھ عرصےسے انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں، ان دھمکیوں کے پیش نظر انہوں نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کو فرانس منتقل کر دیا تھا۔



لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بیروت میں الاشرفیہ کالونی میں ہوئے دھماکوں میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد ایک سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ بعض شدید زخمیوں کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب ہونے کےباعث بریگیڈیئر وسام الحسن کی میت بری طرح مسخ ہو چکی ہے اور انہیں مشکل سے شناخت کیا گیا ہے۔ ان کے جسم کے بعض اعضاء کٹ کر دور جا گرے تھے۔ ان کا پستول بھی ایک دوسرے مکان کی چھت سے ملا ہے، جو دھماکوں کے نتیجے میں کہیں دور جا گرا تھا۔