.

جنرل وسام کے قتل کا شامی بحران سے تعلق ہے لبنانی وزیر اعظم

حزب اختلاف کا میقاتی حکومت سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ بیروت میں تباہ کن کار بم دھماکے میں انٹیلی جنس چیف جنرل وسام الحسن کے قتل کے واقعہ کا ان کے ایک حالیہ کیس سے تعلق ہے جس میں انھوں نے شام کی جانب سے لبنان میں بحران پیدا کرنے کی سازش کو بے نقاب کیا تھا۔

لبنانی وزیر اعظم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ حکومت جلد یا بدیر مستعفی ہو جائے گی لیکن صدر مشعل سلیمان نے انھیں فی الوقت حکومت نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ نجیب میقاتی نے ملک میں قومی اتفاق رائے کی نئی حکومت کے قیام پر زور دیا۔

نجیب میقاتی کے بارے میں پہلے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ انھوں نے بیروت میں جمعہ کو ہوئے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں وہ ہفتے کے روز باضابطہ اعلان کرنے والے ہیں۔

ایک لبنانی روزنامے ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق نجیب میقاتی نے گذشتہ روز کابینہ کو ہنگامی اجلاس میں اپنے اس فیصلے کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔ انھوں نے صدر مشعل سلیمان اور اسپیکر نبیہ بیری کو بھی اپنے ارادے کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ تاہم صدر نے انھیں مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

بیروت میں جمعہ کو کار بم دھماکے میں لبنان کی داخلی سکیورٹی فورسز کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ مقتول جنرل لبنان میں دمشق مخالف سابق وزیر اعظم سعد حریری سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔

واضح رہے کہ لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی نے اگست میں لبنان کے سابق وزیر اطلاعات مشعل سلامہ کی گرفتاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر سلامہ شام سے قریبی روابط رکھتے تھے اور ان پر لبنان میں بم دھماکوں کی منصوبہ کرنے اور دھماکا خیز مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ نجیب میقاتی نے اپنے بیان میں اسی کیس کی جانب اشارہ کیا ہے۔

جنرل وسام الحسن کی سربراہی میں لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی فروری 2005ء میں سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد 2008ء تک ہوئے خودکش کار بم حملوں، قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور ان سے تفتیش کے لیے بھی کام کر رہی تھی۔

دارالحکومت میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد لبنان کی حزب اختلاف نے وزیر اعظم نجیب میقاتی اور ان کی کابینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم سعد حریری نے شامی صدر بشار الاسد پر بم دھماکے میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ مقتول جنرل لبنان کی سکیورٹی کے ضامن تھے۔

لبنان کے دروز لیڈر ولید جنبلاط نے بھی شامی صدر بشار الاسد کو جنرل وسام کے قتل کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''شامی رجیم سیاسی شخصیات کو قتل کرنے کی مہارت رکھتا ہے لیکن ہمارا ردعمل سیاسی ہونا چاہیے۔ ایک صدر نے اگر شام کو جلا دیا، وہ دمشق کا جلاد ہے اور اگر لبنان جلتا ہے تو اس سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا''۔

لبنانی حزب اختلاف نے طاقتور شیعہ تحریک حزب اللہ کی بالادستی کی حامل میقاتی حکومت کو بم دھماکے کا ذمے دار قرار دیا ہے جبکہ اس جماعت نے بم حملے کو لبنان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اس کے قومی اتحاد کو پارہ پارہ قرار دینے کی سازش قرار دیا ہے۔

شامی وزیر اطلاعات عمران الذہبی نے بیروت میں دہشت گردی کے حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بیروت میں خودکش بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کر کے اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں لبنان کی تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی اس واردات کے بعد اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ امریکا، فرانس اور پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے بھی دہشت گردی کے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔