.

بیروت مشتعل مظاہرین کا لبنانی حکومت کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا

وزیر اعظم نجیب میقاتی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں مقتول انٹیلی جنس چیف بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن کی نماز جنازہ کے بعد مشتعل مظاہرین نے وزیر اعظم نجیب میقاتی کے دفتر پر دھاوا بولنے کی کوشش کی ہے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا نمائندوں کی اطلاع کے مطابق مظاہرین وزیر اعظم کے دفتر کے باہر شاہراہ پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو توڑ کر اس کے قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ انھیں منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی ہے۔

جنرل وسام الحسن کے جنازے میں شریک سیکڑوں افراد نے شام مخالف حزب اختلاف کی جماعت ''مستقبل تحریک'' اور مسیحی لبنانی فورسز کے علاوہ اسلامی جماعتوں کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ انھوں نے شام پر بیروت میں ہوئے کار بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا اور وزیر اعظم نجیب میقاتی سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ لبنانی فوجیوں نے بیروت کے وسط میں حکومت پر دھاوا بولنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے مشین گنوں اور رائفلوں سے ہوائی فائرنگ کی اور اشک آور گیس کے اندھا دھند گولے پھینکے۔

لبنانی حزب اختلاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم سعد حریری نے مظاہرین سے پُرامن رہنے کی اپیل کی اور انھوں نے جنازے کے شرکاء سے کہا کہ وہ پُرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔

سعد حریری نے فیوچر ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم امن چاہتے ہیں۔ حکومت کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے لیکن ہم یہ سب کچھ پُرامن طریقے سے چاہتے ہیں۔ میں سڑکوں پر موجود تمام لوگوں سے کہوں گا کہ وہ واپس چلے جائیں''۔

لیکن ان کی اس اپیل کے باوجود سیکڑوں مظاہرین نے وزیر اعظم نجیب میقاتی کے دفتر کی جانب مارچ کیا، انھوں نے وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی جانب پتھراؤ کیا اور شامی صدر بشار الاسد کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ وہ شامی صدر پر بیروت میں کار بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کر رہے تھے۔